مفتی کو صاحب صلاح و تقویٰ ہونا ضروی

   


جامعۃ المؤمنات میں مفتیات بورڈ کا اجلاس، مفتی محمد مستان علی کا خطاب

حیدرآباد 11 ڈسمبر (راست) مرکزی مؤمنات مفتیات بورڈ کا اجلاس بعنوان ’’مفتیان کرام کی ذمہ داریاں‘‘ جامعۃ المؤمنات مغلپورہ میں مفتیہ رضوانہ زرین کی سرپرستی، مفتی ناظمہ عزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز حافظہ رمصیاء افشین کی قرأت، مفتیہ حافظہ محمد زرین رومانیہ کی نعت شریف سے ہوا۔ مفتی محمد مستان علی قادری ناظم جامعۃ المؤمنات نے کہاکہ مفتی اور قاضی میں فرق ہے۔ مفتی کے لئے نیت صالحہ کا ہونا ضروری ہے اس لئے ہر کام کی جان اور روح دراصل نیت ہی ہے۔ مفتی کا بلند کردار، عفت مآب، کامل العقل اور صاحب صلاح و تقویٰ ہونا ضروری ہے۔ منصب افتاء پر نااہل کو فائز ہونے سے روک دیا جانا ضروری ہے۔ فاسق مفتی نہیں ہوسکتا کیوں کہ فتویٰ دینا دینی اُمور میں سے ہے۔ مفتی کو ماہر استاذ کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے اور زمانہ اور اہل زمانہ کے حال سے واقف ہونا، کسی ماہر فقیہ مفتی کے پاس رہ کر فتویٰ نویسی کا باضابطہ سلیقہ سیکھنا ضروری ہے۔ اس اجلاس میں مفتیہ تہمینہ تحسین، مفتیہ سیدہ عاتکہ طیبہ، مفتیہ نسرین افتخار، مفتیہ سیدہ عشیرت بیگم، مفتیہ عائشہ سمیہ، مفتی صدیقہ فاطمہ، مفتیہ حنا کوثر، مفتیہ فریعہ نورین، مفتیہ مہہ جبین، مفتیہ ریشماں تاج، مفتیہ رابعہ بیگم، مفتیہ ثناء جلال، مفتیہ صغریٰ، مفتی مصباح، مفتیہ صباء بیگم، مفتیہ شبانہ، مفتیہ حلیمہ، مفتیہ افراء، مفتیہ اصفیہ انجم وغیرہ شریک رہے۔ دعا سلام پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔