مقدمات کی تفتیش فارنسک جانچ، استغاثہ اور عدالتی فیصلہ تک مؤثر تال میل ضروری

   

تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشیل اکیڈیمی کے صدر جسٹس موسومی بھٹاچاریہ کا کانفرنس سے خطاب

حیدرآباد ۔ 20 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشیل اکیڈیمی نے تلنگانہ پولیس کے اشتراک سے ’’نئے فوجداری قوانین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعہ فوجداری نظام انصاف کو مضبوط بنانا‘‘ کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس منعقد کی۔ جس میں بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس)، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) اور بھارتیہ ساکشتیہ ادھینیم کے نفاذ سے وابستہ عدلیہ، پولیس، جیل، استغاثہ، فارنسک، طبی اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تلنگانہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اپریش کمار سنگھ کی پہل پر منعقدہ کانفرنس کا مقصد نئے فوجداری قوانین کے ڈیجیٹل نفاذ کیلئے تمام اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنا تھا۔ کانفرنس ہائبرڈ طرز پر منعقد ہوئی جس میں ریاست بھر میں تقریباً 1200 عدالتی افسران، پولیس، استغاثہ، جیل، فارنسک اور محکمہ صحت کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے کہا کہ انصاف ان اداروں کی مشترکہ کامیابی ہے جو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایک فوجداری مقدمہ درج ہونے سے لیکر تفتیش، فارنسک جانچ، استغاثہ اور عدالتی فیصلہ تک کئی مراحل سے گزرتا ہے، اس لئے ہر مرحلہ پر مؤثر تال میل ضروری ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشیل اکیڈیمی کی صدر جسٹس موسومی بھٹاچاریہ نے ڈیجیٹ پلیٹ فارمز کے بہتر استعمال اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے کام آسان ہونا چاہئے نہ کہ اضافی دشواریاں پیدا ہوں۔ انہوں نے غلط کوڈنگ نامکمل معلومات اور بار بار ڈیٹا درج کرنے کے باعث ہونے والی تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔ ڈی جی پی سی وی آنند نے کہا کہ نئے فوجداری قوانین شہریوں پر مبنی انصاف، سائنسی تفتیش، ڈیجیٹل شواہد، الیکٹرانک ریکارڈ اور مقررہ مدت میں کارروائی کی سمت اہم تبدیلی ہیں۔ انہوں نے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال، درست ڈیٹا اپ ڈیٹ اور بروقت تفتیش کی ضرورت پر زور دیا۔ تکنیکی اجلاس میں آئی سی جے ایس، ای ساکشیہ، ای ایف آئی آر، ای سمن، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شہادت، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ، فارنسک اور طبی رابطہ کاری سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی جی پی نے نئے قوانین کے نفاذ کا ماہانہ جائزہ لینے کیلئے ہائیکورٹ کے ایک جج کی صدارت میں مستقل رابطہ نظام قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔بH/