ڈاکٹر محمد سراج الرحمن قادری
آج کے اس پرفتن دور میں نہ صرف ہندوستان، نہ برصغیر، بلکہ ساری دنیا میں مشرق سے مغرب تک، شمال و جنوب میں ہر حکومت، ہر طاقت یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے مسلمان قوم کو ہر زاویہ سے دین بیزار، دین سے دور اور لادینیت کے سیلاب میں انہیں ڈبو دیا جائے اور مغربیت کی چاق و چوبند، رنگ رنگیلی دنیا میں لالچی بنا دیا جائے۔ اگرچیکہ اس میں ان باطل طاقتوں کو شکست فاش ہو رہی ہے اور اسلام کا روشن آفتاب اپنی نجات کی کرنیں دن بدن وسیع کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے حالانکہ یہ دنیا کے ناگہانی حالات میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بندگان خدا اسلام کی دولت سے مالا مال ہو رہے ہیں جس طرح 11 ستمبر 2001 میں نیویارک سٹی امریکہ میں ٹوئن ٹاورس پر القاعدہ کے فرضی حملے کا پروپگنڈہ کیا جاکر اسلام کو داغدار مذہب بنا کر پیش کیا جانے کا ڈھونگ رچا گیا تھا، لیکن اس واقعہ کے بعد امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ قرآن کے نسخے لوگوں کی مانگ کی وجہ کم پڑگئے دیگر ممالک سے نسخے، صحیفے منگاکر مانگ پوری کرنے کی کوشش کی گئی۔
بین اسی طرح فلسطین اسرائیلی جنگ، ایران امریکہ اسرائیل جنگ، فیفا ورلڈ کپ 2022، فیفا 2026، کووڈ کی وباء میں مسلمانوں کی تن من دھن سے مدد نے بھی اسلام کے وقار کو بحال کیا۔ لوگ یوروپی ممالک میں جوق درجوق دائرے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک ہندوستان کا معاملہ ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے ہندوستان کے ہزاروں دیہات، گاؤں، قریئے، جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جہاں آج بھی مساجد نہیں ہیں، اللہ اکبر کی صداؤں کی گونج سے فضاء اور انسانیت محروم ہے کئی ہزار ایسے قصبے ہیں جہاں مسلمان بستے ہیں لیکن مدرسہ ہے نہ بنیادی دینی تعلیم نہ ان کا کوئی پرسان حال۔
ستم بالائے ستم اگر کوئی مسلمان ہوتو کرسچن اور دیگر مشنریز انہیں مرتد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ مال، جائیداد، عورت، حرام کی ہر چیز مہیا کی جاتی ہے۔ شرعی ذبیحہ نہیں، نکاح خوانی کا کوئی موثر انتظام نہیں، حتی کہ نماز جنازہ کی ادائیگی معمہ بن جاتی ہے۔ غیر مسلم رسم و رواج کی چھاپ، حرام حلال کا تصور بھی نہیں ہوتا۔ دیہات تو دور کی بات ہے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شہر حیدرآباد جیسے دینی علوم سے مالامال، اولیاء اللہ کا مسکن، مساجد کی بھرمار، مدارس کا جال بچھاہوا جیسے شہر میں اکثریت کرسچن مشنریز کی دیو مالاؤں والے اسکولس میں زیر تعلیم ہیں جن کی ہر روز صبح شرکیہ کلمات، سوریہ نمسکار، وندے ماترم ، گیتا کے پاٹ پڑھتے ہیں، بائیبل کے سطریں سنائی جاتی ہیں، یعنی ہم نے ہماری نسل یعنی ہمارے لخت جگر، جن کے جسم میں کلمہ گو والدین کا خون دوڑ رہا ہے ان اسکول انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے۔یعنی مسلمانوں کی غالب اکثریت بنیادی دینی تعلیم سے محروم ہے، مغربیت کے دلدادہ، یہ نونہال، یہ بچے اتنا مرعوب کے یہ اسلامی اصولوں پر انگلی اٹھانے کی جرأت کرنے لگا۔ نتیجتاً یہ لادینیت کا ماحول اسلام کا دم بھرنے والے مسلمان گھرانوں میں داخل ہو رہا ہے جس کا احساس تب ہونے لگتا ہے جب یہ اپنے خاندانی، عائلی معاملات پر چہ مے گوئیوں کا حل شریعت محمدی میں ڈھونڈنے کے بجائے کورٹ کچہری کی چکروں میں چپلیں گھسیٹنے لگے رہتے ہیں۔امت مسلمہ ان اندوہناک حالات کو سدھارنے ہم نہیں جاگیں گے، اس غفلت کا خمیازہ ہم سے زیادہ ہماری نئی نسل کو تباہی کی شکل میں نظر آئے گا۔
ہم نے غفلت برتی تو آئندہ چند برسوں میں اس سے کٹھن، ناگوار دن آنے والے ہیں۔ ہم حالات سے مرعوب ہوکر سنبھل بھی نہ سکیں گے، ہمارا شیرازہ بکھر جائے گا، اپنی نئی نسل کے ایمان کی یقین کی حفاظت کرو، اپنے کاروبار کو اہمیت اپنی جگہ ہے، دین کے لئے بھی کچھ وقت نکالا کرو، جان سے زیادہ ایمان کی پختگی پر توجہ دو، یہ اس زمانے کی سب سے بڑی عقلمندی ہے، سب سے بڑی اپنوں سے خیرخواہی ہے، یہی کام کے لئے ہمیں ہند میں بھیجا گیا ہے۔ اپنی اولاد کی ایمان کی حفاظت کرو، آنکھ بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، اس ملک میں ہمارا ایمان کے بغیر رہنا مشکل ہے۔ اسلام کو چمکانے، اسلام کو پھیلانے، اسلام کے قلعہ کو مضبوط کرنے کے لئے ایک مرتبہ دیوانہ وار کام میں لگ جاؤ، اسلامی تہذیب کھل کر بیان کرو، احیاء دین کے لئے والدین ہمت باندھ لیں؎
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
کل میدان قیامت میں ہم سے سوال ہوگا میں (اللہ) نے تمہیں وہاں بھیجا تھا، ایمان کی دولت سے مالا مال کیا تھا، پیٹ بھرنے کا سامان دیا تھا، صحت دی بہترین سہولتیں پہنچائیں، خلیفہ بنایا تم نے خلافت والی کیا ذمہ داری نبھائی؟ تم نے کلمہ کی کیا محنت کی؟ یاد رکھو دین پھولنے پھلنے ہماری محنت کا محتاج نہیں ہے، ایک ہوا کے جھونکے میں اللہ تعالیٰ ہدایت کی ہوائیں چلاسکتا ہے، ہم ہماری دنیوی، اُخروی کامیابی کے لئے دین کی خدمت کے محتاج ہیں!
یہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اگر برادران وطن میں دعوت تبلیغ کا منصبی فریضہ بحسن خوبی انجام نہیں دیں گے تو میدان قیامت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہند میں پایہ دار امن قائم ہو اور ہم مشن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنے میں پوری صلاحیت لگانے والے بن جائیں آمین۔