ملک بھر میں مانسون کی تباہ کاریاں

   

کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میںجگر
آدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں
جاریہ سال مانسون کی آمد سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ اس بار ال نینو کے اثرات کی وجہ سے مانسون کی بارشیں کم ہوسکتی ہیں۔ معمول سے کم بارشوں کی پیش قیاسی کے دوران ملک کے کچھ مقامات پر جو بارش ہو رہی ہے وہ مسلسل تباہی کا سبب بن رہی ہے ۔ حالانکہ ملک کے کئی علاقوں میں اب بھی بارش کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مانسون سارے ملک میں پھیل گیا ہے ۔ کئی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اور زیر زمین پانی کی سطح میں بھی کمی درج کی جا رہی ہے ۔ تاہم کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں لگاتار بارش کی وجہ سے عوام کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بارش سے متعلق حادثات میں اموات ہو رہی ہیں۔ سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ اور ابتر ہوگئی ہے ۔ کئی مقامات پر سڑکیںاور پل بھی بہہ گئے ہیں۔ یہ سارا کچھ ان دعووں کے درمین ہو رہا ہے کہ ملک میں زبردست ترقی ہو رہی ہے ۔ حکومتوںک ی جانب سے ہزاروں کروڑ روپئے کے صرفہ سے اسپیس ٹکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سڑکیں تعمیر کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے تاہم ایک مرتبہ کی بارش ہی میں سڑکیں بہنے لگی ہیں۔ جو سڑکیں اور برج چند ہفتے یا چند مہینے قبل ہی شروع ہوئے ہیں وہ بھی بارش کی وجہ سے محفوظ نہیں رہ گئے ہیں۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت جو ریلوے اسٹیشن بڑے بنائے گئے تھے اور جن کی تزئین کی گئی تھی وہ بھی ایک طرح سے آبشار میں تبدیل ہوگئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تعمیراتی کاموں میں انتہائی لاپرواہی اور غفلت برتی گئی ہے ۔ ہزاروں کروڑ روپئے صرف کرتے ہوئے جو تعمیرات کی گئی تھیں اور جن کی تشہیر میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی وہ بھی ایک وقت کی شدید بارش میں بے کار ثابت ہوگئی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو تعمیراتی کام کئے گئے ہیں ان میں معیارات کا خیال نہیں رکھا گیا اور شائد ان میں مالی خرد برد بھی ہوا ہے جس کی وجہ سے تعمیرات پر منفی اثر ہوا ہے ۔یہ کہانی کسی ایک جگہ یا ایک مقام کی نہیں ہے بلکہ کئی مقامات پر ایسا ہوا ہے ۔
جہاں تک ممبئی کا سوال ہے تو ممبئی میں ہر سال بارش کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں۔ شدید بارش کی صورت میں انتہائی مصروفیت اور گہما گہمی والا شہر بھی ایک طرح سے ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے ۔ہر سال مسائل اور مشکلات پیش آتی ہیں اور جیسے ہی بارش کا موسم ختم ہوتا ہے سب کچھ فراموش کردیا جاتا ہے ۔ ہر سال ہونے والی مشکلات اور حادثات کے باوجود یہاں مسئلہ کا کوئی مستقل حل دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ اب تو مہاراشٹرا کے دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اور وہاں بھی شدید بارش کی وجہ سے حادثات پیش آ رہے ہیں اور خاص طور پر سڑکیںسب سے زیداہ متاثر ہو رہی ہیں۔ مختلف شہروں میں بارش کی وجہ سے حادثات کی اطلاع ہے اور عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اتراکھنڈ میں بھی بارش کی وجہ سے ہر سال مشکلات پیش آتی ہیں۔ انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا ہے ۔ ہر سال کچھ حادثات پیش آتے ہیں تاہم وہاں بھی اس مسئلہ کے کسی مستقل حل کیلئے کوئی منصوبہ نہیں بنایا جاتا اور نہ کوئی مستقل حل دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سال کچھ اڈھاک بنیادوپر کچھ کام کئے جاتے ہیں اور پھر ساری صورتحال کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ دہلی اور اطراف کے شہروں میں بھی شدید بارش کی وجہ سے تقریبا اسی طرح کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور ہر سال کی طرح عوام کو اس بار بھی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا ہے ۔
جو بلند و بالا عمارتیں اور پراجیکٹس تعمیر کئے گئے ہیں ان میں بھی انتہائی خامیاں بارش کی صورت میں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ حکومتوںک و ان سارے معاملات کا نوٹ لیتے ہوئے اس صورتحال سے نمٹنے کی مستقل منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر سال جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کو ختم کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے اور عوام کو مسائل سے بچانے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مستقل منصوبہ بناتے ہوئے تدارک کے اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جانا ضروری ہوگیا ہے ۔