ممبئی : اڑیسہ ہائی کورٹ کے سبکدوش چیف جسٹس اور سینئر ایڈوکیٹ ایس مرلی دھرنے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ میں دو ملزمین کے حق میں بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا جو متعصب تفتیش کا نتیجہ ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس کلور اور جسٹس شیام سی چانڈک کو سینئر ایڈوکیٹ مرلی دھر نے مزید بتایا کہ بے قصور لوگوں کو مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے ، ملزمین کا میڈیا ٹرائل ہوا، الزام ثابت ہونے سے قبل ہی ملزمین کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمین گذشتہ 18 سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں اس دوران انہیں جیل سے ایک دن کے لئے بھی رہا نہیں کیا گیا، ان کی زندگیاں برباد کردی گئیں جو اب انہیں واپس نہیں کی جاسکتی ہے ۔ بامبے ہائیکورٹ میں 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ کی سماعت گذشتہ کئی ماہ سے جاری ہے ۔ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جا نے والے فیصلے کی تصدیق کے لیئے ریاستی حکومت کی جانب سے داخل اپیل پر سینئر ایڈوکیٹ راجا ٹھاکرے کی بحث کے اختتام کے بعد ملزمین کے دفاع میں سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری اورسینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا نتیا راما کرشنن نے بحث کی۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ایس مرلی دھر جو خصوصی طور پر دہلی سے تشریف لائے ہیں نے دو دن بحث کی۔ دوران بحث سینئر ایڈوکیٹ ایس مرلی دھر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمین سے لیئے گئے جبراً اقبالیہ بیانات کو اگر ہٹا لیا جائے تو استغاثہ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکا م ثابت ہوئی ہے کہ ملزمین مجرمانہ سازش کا حصہ تھے ۔