بامبے ہائیکورٹ نے دوران سماعت ملزمین کی عدالت میں موجودگی کی درخواست پر ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا
ممبئی: 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں گذشتہ کل اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب استغاثہ نے بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ سے کہا کہ وہ نچلی عدالت سے ملزمین کو ملنے والی پھانسی کی سزا کی تصدیق کیے جانے کے لیے بحث کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ جمعرات کے روز عدالت نے یہ فیصلہ جاری کیا تھا کہ دفاعی وکلاء کو بحث کا آغاز کرنا ہوگا۔دو رکنی بینچ کے جسٹس نتن سامبرے اور جسٹس این آر بورکر کو سینئرایڈوکیٹ راجا ٹھاکرے نے بتایا کہ وہ 12/ اکتوبر سے بحث کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس سے قبل ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر یوگ موہت چودھری نے عدالت کو بتایا تھا کہ کریمنل کنفرمیشن مقدمات میں عموماً استغاثہ بحث کا آغاز کرتا ہے لیکن اس معاملے میں عدالت نے دفاعی وکلاء کو بحث کا آغاز کرنے کا حکم دیا ہے جس سے وہ متفق نہیں ہیں اور وہ ہائی کورٹ کو فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں لہذا عدالت انہیں وقت فراہم کرے ۔ گرما گرم بحث کے بعد عدالت نے دفاعی وکلاء کو 19/ اکتوبر تک کا وقت فراہم کیا تھا لیکن اسی درمیان استغاثہ نے عدالت سے رجوع ہوکر عدالت سے پہلے بحث شروع کرنے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔بامبے ہائی کورٹ نے دوران سماعت ملزمین کی عدالت میں موجودگی کی درخواست پر ابھی تک کوئی فیصلہ صادر نہیں کیاہے ، ملزمین نے عرضداشت داخل کرکے عدالت سے گذارش کی ہے کہ انہیں ناگپور سینٹرل جیل، امراوتی سینٹرل جیل، پونے یروڈاجیل اور ناشک سینٹرل جیل سے ممبئی کی کسی جیل میں منتقل کیا جائے اور بحث کے دوران انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ، ملزمین کی عرضداشت کی استغاثہ نے سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے اور عدالت کو بتایا کہ ملزمین کو جیل سے باہر نہیں نکالا جاسکتا، سیکوریٹی کے خدشات ہیں، ملزمین کو بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ عدالت میں پیش کیاجاسکتا ہے ۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ملزمین عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وہ دوران سماعت وہ بذات خود عدالت میں موجود رہیں تاکہ وہ اپنے وکلاء سے صلاح و مشورہ کرسکیں۔امید ہیکہ عدالت 12/ اکتوبر کو ملزمین کی جیل منتقلی کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کریگی۔