ممبرا میں ایم ایس این کی غنڈہ گردی ’’گھر میں گھس کے مارینگے‘‘

   

ممبرا: ممبرا میں ایک بار پھر مراٹھی زبان کا تنازعہ طول پکڑ رہا ہے ۔ دراصل مسلم اکثریتی شہر ممبرا جو فرقہ پرستوں کی آنکھوں کا شہتیر ہے ۔ اس وقت نشانے پہ آگیا۔ جمعرات کو ممبرا میں ایک مراٹھی نوجوان وشال گاولی نے ایک غیر مقامی پھل فروش سے مراٹھی میں بات کرنے کو کہا۔ جوابی کاروائی میں دکاندار اور بھیڑ نے اسے ہندی میں معافی مانگنے اور کان پکڑنے پر مجبور کیا۔ ایم این ایس نے اس واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے جبکہ ممبرا پولیس نے مراٹھی نوجوان کی حمایت کرنے کے بجائے ، پھل فروشوں کی شکایات کی بنیاد پر اس کے خلاف ناقابل سماعت جرم درج کیا۔ شتمل اویناش جادھو نے نوجوان کو نقصان پہنچانے والوں کو کاروائی کی دھمکی دی ہے ۔ منسے لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ کلیان، تھانے اور نالاسوپارہ میں اسی طرح کے واقعات کے بعد یہ تھانے ضلع میں چوتھا واقعہ ہے ۔ اگر کوئی لڑکا کسی سے مراٹھی میں بات کرنے کو کہتا ہے تو اسے مہاراشٹرا میں معافی مانگنی پڑتی ہے ، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔