منتخبہ حکومت کو نشانہ بنانے سرکاری پلیٹ فارم کا استعمال

   

وزیر اعظم مودی نے اپنی حد پار کردی ہے۔ سی پی آئی لیڈر کے نارائنا کا رد عمل

حیدرآباد 8 اپریل ( سیاست نیوز ) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بی آر ایس حکومت پر تنقید پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سی پی آئی کے قومی سکریٹری کے نارائنا نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک سرکاری پروگرام میں ایک منتخبہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو وفاقیت کے جذبہ کے مغائر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی حد پار کی ہے اور انہوں نے منتخبہ حکومت کی ہتک کی ہے ۔ یہ بہت غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ اس سے دوسری ریاستوں پر بھی تنقیدوں کے راستے کھلیں گے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر نارائنا نے کہا کہ وزیر اعظم نے سرکاری پلیٹ فارم کو ایک ریاستی حکومت پر تنقید کیلئے استعمال کیا ہے اور حکومت پر کرپشن میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا ہے جو مناسب نہیں ہے ۔ وزیر اعظم نے آج شہر میں کئی ترقیاتی پروگرامس کا افتتاح انجام دیا تھا ۔ مسٹر نارائنا نے کہا کہ اگر بی جے پی چاہتی ہے کہ بی آر ایس پر تنقید کی جائے تو اسے پارٹی اجلاس منعقد کرنا چاہئے ۔ ایک سرکاری پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرنا جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے ۔ وزیر اعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے نارائنا نے کہا کہ مودی گذشتہ نو برس سے اقتدار میں ہیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بی آر ایس حکومت کرپشن میں ملوث ہے تو پھر اتنے سال تک وہ خاموش کیوں رہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کے سی آر نے وزیر اعظم کی حمایت کی انہوں نے کرپشن یا دوسرے مسائل پر زبان نہیں کھولی ۔ جب کے سی آر نے وزیر اعظم سے سوال کرنے اور انہیں چیلنج کرنا شروع کردیا تو وہ بی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ چیف منسٹر کی دختر کے خلاف بھی دہلی شراب اسکام میں مقدمہ درج کردیا گیا ۔ یہ کچھ نہیں بلکہ انتخابی فائدہ کیلئے سیاسی شعبدہ بازی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم غیر بی جے پی ریاستوں کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور انہیں عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں۔ ٹاملنالاو میں بھی وزیر اعظم ایک سرکاری پروگرام میں عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کی تھی ۔