امیدوار کے راج گوپال ریڈی یکا و تنہا ؟ ۔ ہائی کمان کو بھی نتیجہ پر شبہات
حیدرآباد۔14۔اکٹوبر(سیاست نیوز) کیا منوگوڑو ضمنی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے شکست قبول کرلی ہے! بی جے پی امیدوار کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کو منوگوڑو انتخابات میں مقابلہ کیلئے یکا و تنہاء کردیا گیا ۔ کہا جا رہاہے کہ پارٹی کے کسی سینیئر قائدنے منوگوڑو انتخابات کی ذمہ داری سے انکار کردیا ہے ۔ کانگریس رکن اسمبلی کے راجگوپال ریڈی کے پارٹی و اسمبلی سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شمولیت کے بعد مخلوعہ نشست پر 3نومبر کو ضمنی انتخابات منعقد ہونے ہیں اور ان میں سہ رخی مقابلہ تصور کیا جا رہاہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے راجوگوپال ریڈی کے مستعفی ہونے سے قبل ملاقات میں کہا تھا کہ بی جے پی اپنے امیدوار کو لازمی کامیاب بنانے اقدامات کریگی لیکن اب جبکہ انتخابی اعلامیہ جاری ہوچکا ہے اور انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے اس کے باوجود بی جے پی نے تاحال اسٹار کیمپینرس کی فہرست جاری نہیں کی اور نہ کسی سینئر قائد کو منوگوڑ ضمنی انتخابات کی ذمہ داری تفویض کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے ‘ رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر ‘ مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی و دیگر قائدین نے منوگوڑ کی ذمہ داری لینے سے معذوری ظاہر کردی ہے جبکہ تمام پارٹی قائدین ان انتخابات کی ذمہ داری لینے سے گریز کرنے اپنی مصروفیات ظاہر کر رہے ہیں۔ بی جے پی اعلیٰ کمان میں بھی یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ منوگوڑ میں بی جے پی کی کامیابی آسان نہیں ہے لیکن سرکردہ قائدین نے انتخابات میں اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے بی جے پی کی محاذی تنظیموں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آر ایس ایس کو منوگوڑ انتخابات میں متحرک کرکے رائے دہندوں کو منقسم ہونے سے روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی بی جے پی قائدین کی جانب سے اپنی شخصی مصروفیات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی اعلیٰ قائدین کو مطلع کردیا گیا ہے کہ وہ منگوڈو ضمنی انتخابات کی ذمہ داری حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ابتداء میں بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کو کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کے سبب بیشتر قائدین منگوڈو سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ پارٹی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ان امور کو حل کرنے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ پارٹی قائدین کو مرکزی قائدین نے ان تنازعات کی یکسوئی کے سلسلہ میں ہدایات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔