منی پور تشدد۔ سکیورٹی فورسیس‘ مظاہرین میں تصادم‘ آنسو گیس داغے گئے

,

   

کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں اور کچھ چند ایک مکانات کو آگ لگائی گئی ہے
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کھیمان لوگ میں ایک حملہ جس میں نو لوگوں کی موت او ردیگر دس زخمی ہونے کے ایک روز بعد جمعرات کی دوپہر میں ہجوم نے کم ازکم دومکانات کو آگ لگادی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ سکیورٹی فورسیس جنھوں نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی ہے طاقت کااستعمال کیا اور امپال کے نیو چیکون میں آنسو گیس شل داغے۔

اس وقت یہ واقعہ پیش آیاجب فوج اورآسام رائفلس نے تشدد زدہ ریاست منی پور میں تشدد میں حالیہ اضافے کے بعد اپنی”علاقائی تسلط“کی کارائیوں کو تیز کردیا۔آرمی او رآسام رائفلس نے جہاں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اس کوہٹادیا او راپنی گشت میں تیزی پیدا کردی ہے۔

فوج کے ایک ٹوئٹ میں کہاگیاہے کہ ”حالیہ تشدد میں اضافہ کے بعدفوج اورآسام رائفلس کی جانب سے علاقہ تسلط کے اپریشنس میں اضافہ کردیاگیا ہے“۔ہندوستانی فوج کے اسپائیر کارپس کے مذکورہ سوشیل میڈیا پوسٹ‘ جس کی کاروائی کا علاقہ منی پور آتا ہے نے کہاکہ ”طویل مدتی خودساختہ کالموں کے ذریعہ کنارے والے علاقوں او راونچائی رسائیوں“ پر تسلط قائم کرلیاگیاہے۔

چہارشنبہ کی ابتدائی ساعتوں متصل ایسٹ امپال میں پیش ائے واقعہ میں حفاظتی اقدامات کو دوگنا بڑھادیاگیا ہے‘ اس واقعہ میں نولوگوں کی موت اوردس لوگ زخمی ہوئے تھے‘ شرپسندوں نے ایک گاؤں اور گاؤں والوں پر حملہ کردیاتھا۔بعدازاں چہارشنبہ کی شام میں شر پسندوں نے منی پور کی خاتون منسٹر کے سرکاری کوارٹرس کو بھی آگ لگادی تھی۔

میتی اور کوکی کمیونٹی کے درمیان چل رہے نسلی تشدد کے واقعات میں ا ب تک 100سے زائد لوگوں نے اپنی جان گنوائی ہے۔ ریاست کے 11اضلاعوں میں کرفیو نافذ کردیاگیاتھااورریاست میں افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے انٹرنٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ریاست کی آبادی میں میتی کمیونٹی 53فیصد ہے جبکہ ناگا کوکیز کی آبادی 43فیصد پر مشتمل ہے۔