اقلیتوں کی شناخت خطرہ میں ، 14 کروڑ ہندوستانی خواتین کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا
سیاست ، فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ کے کپڑا بنک کی 8 ویں سالگرہ ، افتخار حسین و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ملک کے حالات انتہائی سنگین ہیں خاص طور پر مسلمانوں کے لیے یہ بڑے صبر آزما لمحات ہیں اور ایسے میں ہم علم و عمل اخلاق و کردار کے ذریعہ ہی نہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں بلکہ حکومتوں کو یہ بتاسکتے ہیں کہ مسلمانوں نے صرف جدوجہد آزادی میں ہی اپنی جان و مال کے نذرانے پیش نہیں کئے بلکہ آزادی کے بعد بھی ہر قسم کی نا انصافی تعصب و جانبداری کے باوجود قومی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اب بھی اسی ملک کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اگر آج ملت کا متمول اور بااثر طبقہ ملت کی ترقی کے لیے ایک خصوصی حکمت عملی طئے کرتے ہوئے اہداف کا تعین کرتا ہے تو اس کے ملت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے سیاست ملت فنڈ ، فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے کپڑا بنک کی 8 ویں سالگرہ تقریب سے خطاب میں کیا ۔ شدید گرمی کے باوجود عابد علی خاں آئی ہاسپٹل دارالشفاء کی تیسری منزل پر منعقدہ اس تقریب میں شرکاء بشمول معززین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں جناب رضوان حیدر ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ، جناب علی حیدر عامر ، جناب سید حیدر علی ، ڈاکٹر سمیع اللہ ، ڈاکٹر عبدالوحید ، پروفیسر ایس اے شکور ، پروفیسر مجید بیدار ، جناب منیر الزماں ، محترمہ یاسمین احمد ، محترمہ سہیلہ عرفان موتی والا ، محترمہ شہناز محی الدین ، محترمہ ذلیخہ خضر ( این آر آئی لندن ) ، جناب حامد علی ( این آر آئی ) ، جناب انتخاب عالم ، جناب غوث معین الدین ، جناب صدیق سکریٹری مسجد عالیہ ، جناب فراز حسین ، جناب کرار احمد ، جناب خلیل احمد ( خلیل واچ ) ، بشیر الدین فاروقی ، ڈاکٹر ابراہیم احمدی ، ڈاکٹر احسان احمد ( لندن ) ، جناب تقی الدین شجیع اور جناب اصغر علی خاں قابل ذکر ہیں ۔ جناب عامر علی خاں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات اس قدر عجیب و غریب ہوگئے ہیں کہ آبنائے وطن کو اپنی دولت بچانے کی فکر ہے تو مسلمانوں کو اپنی شناخت کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے ۔ فرقہ پرست جان بوجھ کر مسلمانوں سے یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ قومی ترقی میں آپ لوگوں کا حصہ کیا ہے ۔ اگرچہ ملک کی ترقی میں مسلمان بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں لیکن ہمیں مختلف بہانوں سے حقارت سے دیکھا جارہا ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے بیت المال کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ ہمیں آج وہ اقدامات کرنے چاہئے جو ہماری کمیونٹی کو فائدہ پہنچا سکے ۔ ہم کو بہت ہی غور و فکر کرتے ہوئے لائحہ عمل طئے کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کپڑا بنک کے بارے میں کہا کہ وہ تمام عطیہ دہندگان کا قلب کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں خاص طور پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ٹرسٹی ہیلپنگ ہینڈ ڈاکٹر شوکت علی مرزا ، جناب رضوان حیدر ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین کی ستائش کی جانی چاہئے کہ ان شخصیتوں نے کپڑا بنک کے ثمرات ضرورت مندوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جہاں تک افتخار صاحب کا سوال ہے وہ جو ٹھان لیتے ہیں اسے منزل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں ۔ منیجر فیض عام ٹرسٹ جناب سید عبدالستار کی قرات کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ روزنامہ سیاست ، فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈ نے مل کر 8 سال قبل کپڑا بنک کا آغاز کیا تھا ۔ 29 اپریل 2016 کو عابد علی خاں آئی ہاسپٹل میں اس کا افتتاح عمل میں آیا اور اب تک اللہ کے فضل و کرم سے 98169 خاندانوں میں 5,74,959 کپڑوں کے پیاکٹس تقسیم کئے گئے ۔ اس طرح 5 لاکھ سے زائد ضرورت مندوں تک کپڑے پہنچائے گئے ۔ اس میں 1360 مقام عطیہ دہندگان اور فی سبیل اللہ ایڈ آرگنائزیشن کینڈا ڈاکٹر یاسمین کا اہم کردار رہا ۔ کپڑا بنک کو جناب منیر الزماں نے 4000 لیدر بوٹس اور 1000 لیدر جیاکٹس فراہم کئے تھے جنہیں سخاوت ٹرسٹ کشمیر کے اشتراک و تعاون سے کشمیر کے مختلف مقامات پر تقسیم کیا گیا ۔ اقبال پٹنی نے اس وقت ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا تھا ۔ مہمان خصوصی ماہر اقتصادیات و رکن تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن جناب عامر اللہ خاں نے اعداد و شمار اور مختلف جائزوں کے حوالے سے بتایا کہ کھانا بہت ساری تنظیمیں کھلاتی ہیں یعنی روٹی کا انتظام کردیا جاتا ہے لیکن کپڑوں کا انتظام کرنا بہت اہم ہوتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 32 سال قبل ایک اسٹڈی کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں انکشاف ہوا تھا کہ دہلی جیسے شہر میں ماہ دسمبر کے بعد مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے یعنی سب سے زیادہ اموات دسمبر ، جنوری اور فروری میں ہوتی ہیں ۔ لاوارث نعشیں بھی بڑی تعداد میں دستیاب ہوتی ہیں جب اس کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ اموات سردی سے نہیں بلکہ کپڑے نہ ہونے کے باعث ہوئی ہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت رہی کہ ملک میں 700 ملین ( 70 کروڑ ) خواتین میں سے 20 فیصد ( 14 کروڑ ) خواتین کے پاس صرف ایک جوڑا کپڑے ہیں ۔ ان حالات میں کپڑا بنک جیسے ادارے اور افتخار صاحب جیسی شخصیتیں غیر معمولی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ عامر اللہ خاں نے مرحوم منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ حیدرآباد میں ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوئی ہے اسے پر کرنا مشکل ہے ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتحار حسین نے اپنے جذباتی خطاب میں بار بار ظہیر صاحب کا ذکر کرتے رہے اور کہا کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی سرپرستی اور روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی و سیاست ڈاٹ کام کے تعاون سے یہ فلاحی خدمات جاری ہیں جس کے لیے وہ بطور خاص عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں ، جناب عامر اللہ خاں ، جناب افتخار حسین اور پروفیسر ایس اے شکور کے ہاتھوں یتیم و یسیر بچوں میں ملبوسات اور جوتے تقسیم کئے گئے ۔ کپڑا بنک کے شیخ اکرم ، اسماء فاطمہ اور جناب محمد کے ساتھ ساتھ فیض عام ٹرسٹ کے ارکان عملہ کی زبردست ستائش کی گئی ۔ صحافی جناب محمد ریاض احمد نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔۔