مودی جی کا کوئی مقابلہ نہیں

   

عامر علی خان
وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی ریکارڈ، آر ایس ایس پرچارک کی حیثیت سے ان کی خدمات اور بحیثیت چیف منسٹر گجرات ان کے کارناموں سے کون واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے 2001 تا 2014 چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ہمیشہ سے ہی وہ متنازعہ شخصیت کے حامل رہے ہیں۔ خاص طور پر چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے اپنی میعاد کے دوران وہ بدنام زمانہ بی جے پی لیڈر کے طور پر منظر عام پر آئے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے بشمول کئی یوروپی ملکوں نے انہیں ویزے دینے سے انکار کردیا۔ مودی جی اپنی تعلیمی قابلیت اور تاریخ پیدائش (تواریخ پیدائش) کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی کو لیکر بھی تنازعات میں گھرے رہے اور اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کو پیش کردہ ان کے حلف نامہ بطور ثبوت پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ویسے بھی کبھی مودی جی کو بی جے پی کے قد آور لیڈر ایل کے اڈوانی کا فرمانبردار چیلا سمجھا جاتا تھا لیکن چیلے نے اپنے گرو کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں ان کے چیف منسٹر گجرات کے عہدہ پر 13 برسوں تک فائز رہنے کا حوالہ دیا وہیں آپ کو یہ بتانا چاہیں گے کہ مودی جی 10 جون 2026 کو عہدہ وزارت عظمی پر 4399 دن مکمل کرلیں گے۔ اس طرح وہ مسلسل میعادوں کے لحاظ سے سب سے طویل عرصہ تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ قائم کردیں گے۔ واضح رہے کہ مودی جی ہندوستان کے 15 ویں وزیر اعظم ہیں۔ طویل عرصہ تک عہدہ وزارت عظمی پر فائز رہنے کا اعزازات تک ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو حاصل تھا جنہوں نے 13 مئی 1952 تا 27 مئی 1964 دنوں تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اگر دیکھا جائے تو غیر مسلسل میعادوں کے حساب سے پنڈت جواہر لال نہرو نے 6130 دن وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ دنیا بھر میں خاتون آہن کی حیثیت سے اپنی مخصوص پہچان رکھنے والی اندرا گاندھی کو اپنے والد پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد سب سے زیادہ عرصہ تک عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔ انہوں نے غیرمسلسل میعادوں میں جملہ 5829 دن بحیثیت وزیراعظم خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 3656 اور واجپائی 2256 دن تک وزیراعظم رہے۔ اگرچہ مودی جی اس دوڑ میں پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی سے آگے نکل رہے ہیں لیکن ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اسے ایک بڑی فوجی طاقت بنانے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی شاندار شبیہ بنانے کے ساتھ ساتھ صنعتی و زرعی اور سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں غیر معمولی ترقی کروانے کے معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی دونوں سے بہت پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے 12 سالہ اقتدار کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ملک کی ترقی کم بربادی زیادہ ہوئی ہے۔ ہم مہنگائی، بیروزگاری، فرقہ پرستی، خواتین کے جنسی استحصال، دلتوں پر مظالم کے بڑھتے واقعات اور عالمی سطح پر ہندوستان کی جو شبیہ متاثر ہوئی ہے اس کے تناظر میں ہی یہ بات رقم کررہے ہیں۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی جی ہر ناکامی پر خامی اور کمزوری کو ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے جوڑتے ہیں حالانکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہندوستان کی ترقی و خوشحالی ک ی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ پنڈت جواہر لال نہرو کو جاتا ہے۔ 1951 میں انہوں نے پہلا پنچسالہ منصوبہ شروع کیا، ان ہی کی دور وزارت عظمیٰ میں 1951 کے دوران پہلے ایشین گیمس کا باوقار انداز میں انعقاد عمل میں آیا۔ 1952 میں ہی کمیونٹی ترقیاتی پروگرامس کا آغاز ہوا۔ 1955 میں ہندوستان کا پہلا کمپیوٹر کولکتہ میں انسٹال کیا گیا، 1955 میں ہی پنڈت جواہر لال کی زیر قیادت کانگریس حکومت میں چھوت چھات کو ایک جرم قرار دیا گیا۔ 1956 میں ہندوستان کو صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے صنعتی پالیسی ابنائی گئی جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں صنعتی انقلاب برپا ہوا اور دنیا سبز انقلاب یعنی زرعی شعبہ کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ 1959 میں قومی سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن کا قیام عمل میں آیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کو ہی ہندوستان کے مختلف مقامات پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجیز، آئی آئی ایمس کا 1961 میں قیام عمل میں لانے کا اعزاز حاصل رہا۔ 1961 میں ہی جہیز پر پابندی کا قانون نافذ کیا گیا۔ 1963 میں بھاکرا، منگل ڈیم پراجکٹ کو ملک کے نام معنون کیا گیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے کارناموں میں دستور سازی، آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمس، اے آئی ایمس، این آئی ٹی این آئی ڈی، اسرو اور ڈی آر ڈی او، اٹامک ریسرچ سنٹر یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کا قیام بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس مودی جی کی حکومت میں بیروزگاری کی شرح ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ درج کی گئی۔ ان کے اقتدار میں سب سے زیادہ تعداد میں کسانوں نے خودکشیاں کیں، مودی جی کی حکومت میں (تینوں میعاد میں) سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات برپا ہوء، دنیا کے انتہائی آلودہ شہروں میں ہندوستان کے 10 شہروں کو سرفہرست قرار دیاگیا۔ ہندوستان کو خواتین کے لئے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا۔ نوٹ بندی اور گبر سنگھ ٹیکس یا جی ایس ٹی سے عوام کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں۔ ساری دنیا کو مودی جی نے یہ بتایا کہ میں نے دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ نصب کروایا (جس میں اکثر چینی مصنوعات استعمال کی گئیں حالانکہ چین ہمارا دشمن نمبر ون ہے)، ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بحیثیت وزیر فینانس و وزیراعظم ملک کی معیشت کو مضبوط و مستحکم کیا جبکہ نریندر مودی جی کی حکومت میں ڈالر کے مقابلہ روپیہ تاریخ کی بدترین سطح پر آگیا۔ مودی جی کے بارے میں راہول گاندھی نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ ملک کی قیادت کرنے کے لئے فٹ نہیں ہیں وہ اب ملک کے معاملات چلانے کے قابل نہیں رہے۔ مودی جی کی عجیب و غریب سیاسی حرکتوںکے نتیجہ میں پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ ساتھ ایل پی جی اور ایل این جی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ اب تو حال یہ ہے کہ عوام خوردنی تیل خریدنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ ڈاکٹر منومہن سنگھ نے ملک میں خام تیل کے ذخائر سے متعلق سنجیدہ اقدامات کی وکالت کی تھی اور وہ چاہتے تھے ملک میں تیل کے ذخائر قائم کئے جائیں لیکن نریندر مودی نے اسے نظرانداز کردیا۔ ماہرین اقتصادیات اور سرکردہ سیاستداں بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالے جانے پر روپئے کی غیر مستحکم قدر، بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے لئے مودی جی کی جملہ بازی کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ مودی جی صرف باتیں کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ وہ جملہ بازی کے عادی ہوگئے ہیں۔ ایسے میں ملک کو مودی جی اور جملہ بازی سے بچانا ضروری ہے اور ہاں مودی جی سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے دانشور اور عالمی سطح پر مشہور و معروف ماہر اقتصادیات کے بارے میں یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ منہ نہیں کھولتے کچھ نہیں بولتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کم گو عقل و دانش جیسی خوبیوں سے لیس ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کبھی بھی میڈیا کا سامنا کرنے اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے گریز نہیں کیا چنانچہ انہوں نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں 114 پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے 75، رجیو گاندھی نے 62، ملک کو جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دینے والے لال بہادر شاستری نے 56، انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کا نعرہ لگانے والے اٹل بہاری واجپائی نے 55، اندرا گاندھی نے 42، پی وی نرسمہا راؤ نے 40 پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے مودی جی نے ایک بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کی جرأت و ہمت نہیں کی۔ویسے بھی اکتوبر 2007 میں مودی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے پریشان اور حالت برہمی میں وہاں سے رفو چکر ہوگئے تھے ۔ شائد وہی ہیئت ان میں اب بھی پائی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مودی جی نے جب 2014 میں بحیثیت وزیراعظم اپنے عہدہ کا جائزہ لیا تھا اس وقت ملک پر 55 لاکھ کروڑ کا قرض تھا اور اب 214 لاکھ کروڑ کا قرض ہے۔