٭ مودی حکومت کی من مانی پر خاموش تماشائی نہ بنیں
٭ کمیونسٹ قائدین سے اپیل
٭ اندرجیت گپتا کی خدمات کو خراج عقیدت
دفعہ 370،وادی کو ہندوستان سے اٹوٹ وابستہ رکھنے کا واحد راستہ تھا : ڈی راجہ
حیدرآباد۔25اگسٹ(سیاست نیوز)جموں کشمیر کے حالات نہایت خراب ہیں‘ مودی حکومت کے آرٹیکل 370کی برخواستگی او رریاست کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے وادی کے حالات کو مزید ابتر بنادیاہے‘ مقامی عوام کی رائے حاصل کئے بغیر ا س طرح کا اقدام ہندوستان کے جمہوری نظام پر بڑا وار ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے نو منتخبہ قومی جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پارٹی ہیڈکوارٹر مخدوم بھون میںاتوار کے روز اندرجیت گپتا کی صدی تقاریب کے ضمن میں ’’ آرٹیکل370کی برخواستگی اورجموں و کشمیرکے حالات‘‘ کے عنوان پر ایک سمینار منعقد کیاگیاتھا جس میںمہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈی راجہ نے خطاب کیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ جنرل سکریٹری سی پی آئی چاڈا وینکٹ ریڈی کے علاوہ پارٹی کی قومی عاملہ کے رکن سید عزیز ‘ پالا وینکٹ ریڈی‘ ای ڈی نرسمہا اور دیگر اس موقع پر موجود تھی۔ پارٹی قومی جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ڈی راجہ حیدرآباد آئے تھے جہاں پر پارٹی قائدین او رکارکنوں نے ان کا والہانہ خیرمقدم کیا۔ شمس آباد ائیرپورٹ سے مخدوم بھون تک جلوس کی شکل میںلایاگیااور مخدوم بھون میںپھول برساتے ہوئے ڈی راجہ کا استقبال کیاگیا۔سمینار سے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کامریڈ ڈی راجہ نے کہاکہ مودی حکومت کی دوسری میعاد کے پہلے بجٹ اجلاس میں بے شمار بلوں کو منظوری دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ یو اے پی اے ‘ آر ٹی آئی‘این آئی اے اور آدھار میںترمیم کے ساتھ آرٹیکل370کی برخواستگی کے ذریعہ جموں وکشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ چھین لینے کا عمل مودی حکومت کی خراب منشاء ظاہر کرتا ہے۔ راجہ نے کہاکہ جمو ں او رکشمیر پر فیصلہ ریاستی عوام کی مرضی او رائے جانے بغیر کیاگیا ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ جس انداز میں یہ فیصلہ لیاگیاہے وہ بھی ایک دستوری غلطی ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ جو کچھ کیاگیا ہے وہ قابل قبول نہیںہے۔ انہو ںنے کہاکہ آرٹیکل 370ہی جموں اورکشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنائے رکھنے کا واحد راستہ تھا مگراس کو بھی حکومت ہند نے بند کردیاہے ۔ آرٹیکل370کی برخواستگی کے حوالے سے جھوٹے پروپگنڈے کا بھی ڈی راجہ نے مودی حکومت پرالزام عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کو گلے میںملک کے غدار او ردہشت گردوں کا تمغہ ڈال دیاجارہا ہے۔ڈی راجہ نے کہاکہ بی جے پی کے لوگ پروپگنڈہ کررہے ہیںکہ جموں و کشمیر ہندوستان سے الگ ہوگیاتھا مگر مودی نے آرٹیکل370کی برخواستگی کے ذریعہ ریاست کو ہندوستان کا حصہ بنایا ہے۔ راجہ نے کہاکہ آزادی کے بعد تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد پانچ سو سے زائد جاگیردارانہ نظام پر مشتمل ریاستیں تھیںجس کو انڈین یونین میںشامل کیاگیا تھا ۔راجہ نے کہاکہ ان میں سے ایک ریاست جموں اورکشمیر بھی تھی جس کو دستور ہند کی دفعہ 370کے تحت انڈین یونین کاحصہ بنانے کا فیصلہ کیاگیاتھا تاکہ مذکورہ ریاست کو انڈین یونین کا اٹوٹ حصہ بنایاجاسکے اور اس میں انڈین یونین کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی تھی۔انہوں نے آرٹیکل 370کی برخواستگی کے متعلق مرکزی حکومت کے اقدام پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا۔ انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیرکی عوام کے ساتھ انصاف تک ہمیںاپنی جدوجہدکو جاری رکھنا ہوگا۔ اندر جیت گپتا کو خراج پیش کرتے ہوئے ڈی راجہ نے کہاکہ غریب اورمزدور پیشہ افراد کیلئے آخری سانس تک جدوجہد کرنے والی شخصیت کا نام اندرجیت گپتا تھا۔