چھوٹے اِشارے بڑے چیلنجس
شیکھر گپتا
نریندر مودی نے عوامی خدمات کے 25 سال مکمل کرلئے ہیں۔ انہوں نے یہ 25 سال کیسے مکمل کئے، اس پر غور کرنا ضروری ہے اور یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ یہ اس سے آگے کے دور کا جائزہ لینے کا موسم ہے۔ ان کے حامی جشن منا رہے ہیں، ان کی کابینہ نے ایک قرارداد منظور کرکے ان کی زبردست تعریف و ستائش کی، ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے، یقیناً ناقدین بھی عوامی زندگی میں ان کے تقریباً 25 سال (ربع صدی) پر محیط دور کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن وہ اس کام کیلئے نشتر کی بجائے درانتی استعمال کررہے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا بھی موسم ہے۔ خاص طور پر صحافیوں کا جو جس میں ’’پہلی مرتبہ مودی سے ملاقات کی‘‘، جیسی کہانیاں ستا رہے ہیں۔ راقم الحروف ان کہانیوں کو کسی اور دن کیلئے محفوظ رکھے گا۔ آیئے! آج کی سنجیدہ بحث کو ان کہانیوں سے آلودہ نہ کریں۔ دو ہفتے پہلے ہم نے لکھا تھا کہ ہندوستان میں کسی بھی برسراقتدار لیڈر کیلئے تیسرا سال اور تیسری میعاد سب سے مشکل ہوتی ہے۔ اس دوران چیلنجس بڑھنے لگتے ہیں۔ ایک قسم کی تھکن محسوس ہونے لگتی ہے اور اقتدار کے دعویدار اپنے ہتھیار تیز کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کا اطلاق مودی پر نہیں ہوتا۔ ان کی پارٹی میں کوئی شخص ایسا لفظ یعنی جانشینی اور اقتدار کی منتقلی سرگوشی میں بھی کہنے کی بھی ہمت نہیں کرے گا لیکن مودی کی تیسری میعاد دوسرے تمام چیلنجوں سے گھری ہوئی ہے۔ ان کی تھکی ہوئی اور نامکمل کابینہ یا مجلس وزراء مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ ان کے یعنی بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ میں یوگی آدتیہ ناتھ، دیویندر فڈنویس اور ہیمنتا بسوا سرما کو چھوڑ کر مابقی کئی قائدین متعدد چیلنجس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں دکھا پارہے ہیں۔ ادارتی صحافت میں ایک لفظ کو ممنوع قرار دینے کا پرانا اختیار استعمال کرنے اور اس کے تحت گھسے پٹے لفظ ’’بیانیہ‘‘ کو شامل کرنے کے بعد اب میں اس لفظ کا استعمال نہیں کرسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی رائے کے اس بازار میں مختلف اور ایک دوسرے سے متضاد خیالات کی بھرمار ہے۔ مودی اور بی جے پی کی کہانی اب بھی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن اب اس کی بالادستی پہلے جیسی نہیں رہی۔ مختلف سمتوں سے اُٹھنے والی ہوائیں اس ہنگامہ آرائی میں اضافہ کررہی ہیں جس کا سامنا مودی کو اپنی عوامی زندگی کے 26 ویں سال میں داخل ہوتے ہوئے کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے مودی کے اس روایتی اور اب تک ہر محاذ پر کامیاب رہنے والی تین نکاتی فارمولہ کو 2014ء کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ہم نے جن تین نکات کا حوالہ دیا، وہ ذیل میں دے رہے ہیں۔ (1) سخت گیر ہندوتوا قوم پرستی (2) فلاحی و بہبودی اسکیموں میں توسیع (3) نمایاں بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) کی تعمیر۔جہاں تک فلاحی اور بہبودی اسکیموں کی توسیع کا سوال ہے، فلاحی سہولتوں کوموثر طریقہ سے لوگوں تک پہنچانا اہم ہے جس میں کم سے کم کٹوتی اور بدعنوانی ہو یعنی کرپشن نہ ہو۔ جہاں تک نمایاں انفراسٹرکچر کی تعمیر کا سوال ہے، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کی واضح اور نظر آنے والی تعمیر جس کے ساتھ بدعنوانی کے بڑے الزامات نہ ہوں، اہم ہے۔ مودی کا یہ فارمولہ اب بھی قائم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب کئی دوسرے عوامل بھی سامنے آچکے ہیں اور ہم صرف ایک ایسی نسل یعنی Gen-Z کی بغاوت کی بات نہیں کررہے ہیں جو ناقابل اصلاح مذہبی تعصب کا شکار تعلیم یافتہ اور بڑی حد تک غربت سے باہر ہے۔ مودی کے دور وزارتِ عظمی میں یہ بحران غیرمعمولی کیوں ہے؟ اس کی وجہ ان تمام عوامل کا ایک ساتھ جمع ہوجانا ہے جیسا کہ شیکسپیئر نے کہا تھا ’’جب مصیبتیں آتی ہیں تو تنہا نہیں آتیں بلکہ لشکروں کی صورت میں آتی ہیں۔ اگر علیحدہ طور پر دیکھا جائے تو ان میں سے ہر عنصر معمولی دکھائی دے سکتا ہے لیکن جب ان سب کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ انتہائی طاقتور بن جاتے ہیں۔ عظیم مینجمنٹ گرو سی کے پرہلاد کا کہنا تھا کہ کمزور اشارہ مل کر ایک بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔
چھوٹے اشارے بڑے خدشات: اگر ہم مودی کی عوامی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو اسے پرہلاد کے بیان کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ پرہلاد نے اپنے 1995ء کے مشہور مقالے ’’کمزور اشارے بمقابلہ مضبوط نمونے‘‘ میں اس کی وضاحت کی تھی۔ انہوں نے اس کا خلاصہ یوں بیان کیا ’’اگر ان اشاروں کو ایک ایک کرکے دیکھا جائے تو شاید ان کی اہمیت زیادہ محسوس نہ ہو لیکن جب ان سب کو یکجا کیا جائے تو یہ کسی ملک یا صنعت میں آنے والی بڑی تبدیلی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج مودی کو بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے؟ اس کیلئے چند حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ساکھ اس کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجہ میں انتخابی عمل کی شفافیت اور دیانت داری کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ دوسری اہم بات عدلیہ کے بارے میں بڑھتا ہوا تاثر ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ عدلیہ یا تو انتظامیہ کے اقدامات پر نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرتی یا پھر حکومت کو خوش کرنے والے احکامات جاری کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عدلیہ کے بارے میں یہ تاثر دونوں جانب پایا جاتا ہے یعنی حکومت کے حامی اور مخالفین دونوں اس خیال کا اظہار کرتے ہیں۔ تیسری اہم بات جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ریٹائرڈ سیول سرونٹ سبھاش چندر گرگ نے قومی مجموعی پیداوار کے اعداد و شمار کی ساکھ پر ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی میں اضافہ، چیف الیکشن کمشنر پر دو سابق الیکشن کمشنران کی تنقید، حزب اختلاف یا اپوزیشن کے خلاف معاندانہ رویہ اور میڈیا تک اپوزیشن کی محدود رسائی نے بھی مودی کیلئے چیلنجس پیدا کئے ہیں۔ اب حال یہ ہوگیا ہے کہ نوجوان، وزیراعظم نریندر مودی کا مذاق اُڑا رہے ہیں جبکہ چیف جسٹس آف انڈیا جیسی شخصیتوں کے خلاف بھی راتوں رات بحث چھڑگئی ہے۔ اب تو بی جے پی کی چھوٹی اتحادی جماعتوں نے بھی اس کے خلاف مزاحمت شروع کردی ہیں۔ فیصلہ سازی میں غیریقینی اور تاخیر بھی مودی کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ مودی کابینہ میں ردوبدل کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں جس سے ان کی گرفت کمزور ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح اسٹاک مارکٹ میں مسلسل گراوٹ اور سرمایہ کاروں کے بھروسہ میں کمی نے بھی مودی کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج پیدا کردیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کیلئے حالات موافق نہیں ہے۔٭