مورخ سمیت سرکار جن کیلئے تاریخ ایک فن تھی

   

رامچندر گوہا
سمیت سرکار ایک غیرمعمولی شخصیت تھے جنھوں نے اپنی دانشوارانہ سوچ و فکر کے ذریعہ نہ صرف اپنے دوست احباب بلکہ عوام پر اچھے اثرات مرتب کئے ۔ اپنے کئی برسوں پر محیط فکری سفر پر غور کرتے ہوئے آخری مضمون میں سمیت سرکار نے کچھ یوں لکھا تھا ’’اب تک ہم ہندوستانی مورخین نے وہی تاریخیں رقم کی ہیں جو ہم لکھنا چاہتے تھے یعنی اپنی مرضی و منشاء کے مطابق ہی ہم نے تاریخ کا احاطہ کیا ہے اور وہ بھی اپنے علاوہ کسی اور کی پیروی کئے بناء اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آزادی اب ختم ہوتی جارہی ہے ‘‘۔ سمیت سرکار نے مذکورہ جملے کے ذریعہ اس بات کا اعتراف کیا کہ ہندوستان میں مورخین بالکل آزاد تھے ، ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوا کرتا تھا وہ اپنی تحقیق کے مطابق اپنی مرضی و منشاء کے مطابق بناء کسی دوسرے کے ایجنڈہ کو خاطر میں لائے بیباک اور بے لاگ انداز میں تاریخ قلمبند کیا کرتے تھے ۔ سمیت سرکار نے ایک طویل عمر پائی ، ان کے سوچ و فکر کا سفر یا فکری سفر بڑا ثمرآور رہا ۔
1939 ء میں کلکتہ ( موجودہ کولکتہ ) میں اُن کی پیدائش ہوئی اور جاریہ ماہ کے اوائل میں دارالحکومت دہلی میں اُن کا دیہانت ہوا ( 13 اگسٹ 2026 کو دہلی میں وہ چل بسے ) انہوں نے سودیشی موومنٹ ان بنگال 1903-1908 ماڈرن انڈیا اور رائٹنگ سوشل ہسٹری جیسی کتابیں تحریر کی ہیں ۔ وہ سبلٹن اسٹڈیز گروپ کے فاؤنڈر ممبر ( رکن تاسیسی ) رہے ۔ بہرحال ایک طویل اور حرکیاتی زندگی میں سمیت سرکار کو دوسروں کی جانب سے مسلط کئے گئے تین تاریخی ایجنڈوں کا سامنا کرنا پڑا ۔
پہلا ایجنڈہ روایتی مارکسی ازم تھا جو ماضی کو ایک محدود معاشی نقطہ نظر سے دیکھنا تھا اور سمیت سرکار کے آبائی شہر میں اس کااچھا خاصا اثر تھا ۔ ( خود سمیت سرکار کے والد سسوبھن سرکار بھی ایک مشہور مورخ و ماہر تعلیم اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رُکن تھے) ۔ دوسرا ایجنڈہ مابعد جدیدیت اور مابعد نوآبادیات کا باہم جڑا ہوا رجحان تھا جو انسانی سماجی رویوں کو بڑی حد تک جذبات احساسات اور بیانیے کے تناظر میں دیکھتا تھا اس رجحان نے ان ہندوستانی باشندوں اور شائد بالخصوص بنگالی دانشوروں کو بھی متاثر کیا ہے یا امریکہ میں مقیم امریکی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل شخصیتوں کو متاثر کیا ہے اور تیسرا ایجنڈہ سنگھ پریوار کی مذہبی اکثریت پسندی تھی جو ہندوؤں کی عظمت بیان کرتی جبکہ مسلمانوں کو بدنام کرتی تھی ۔ اُنھیں بدترین انداز میں پیش کرتی تھی ۔ اسی وجہ سے 1980 ء کے دہے اور اس کے نظریاتی اور سیاسی طورپر غالب ہوتی گئی ۔سمیت سرکار پومو ۔ پوکو فکر سے متاثر ہونے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے سیلٹن اسٹیڈیز اسکول کے اپنے رفقاء کی بہ نسبت پومو ۔ پوکو فکر کا بہت قریبی جائزہ لیا تھا کہ کیسے وہ فکر معیشت سماجی کشمکش اور نچلی ذاتوں کی محرومی کو نظرانداز کرتی ہے ۔ ہندوتوا کے بارے میں اُن کا انکار قطعی تھا یہ انکار ماضی کی اس نظریہ کی غلط تشریحات کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں جمہوریت اور تکثیریت پر اُس کے خطرناک اثرات کی بنیاد پر تھا لیکن مارکس ازم کے ساتھ سمیت سرکار کا تعلق زیادہ پیچیدہ تھا ۔ وہ ابتداء ہی میں مارکسزم کے معاشی جبر و تعین پسندی کے تصور اور نظریہ سے دور اختیار کرچکے تھے اور انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان میں ذات پات اور صنفی امتیاز بھی عدم مساوات کے اہم محور ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے طبقاتی فرق ۔ سمیت سرکار کی تحریریں مارکسی اصطلاحات سے بالکل پاک تھیں اور جہاں تک میں جانتا ہوں انھوں نے کبھی بھی کسی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن اپنی جوانی کے دور کے مارکسزم کو پوری طرح مسترد بھی نہیں کیا ۔ وہ اسے اب بھی انسانی آزادی اور نجات کا ایک فلسفہ سمجھتے تھے حالانکہ سویت یونین جیسے ملکوں میں اس کی بعض بگڑی ہوئی صورتیں منظرعام پر آئی تھیں۔
یہاں اس بات کات ذکرہ ضروری ہوگا کہ سمیت سرکار کی پہلی کتاب THE SWADESHI MOVEMENT IN BENGAL تھی جو 1973 ء میں شائع ہوئی ۔ دراصل اس کتاب کو ہم ایک غیرمعمولی سیاسی اور سماجی تاریخ کی کتاب کہہ سکتے ہیں ۔ اس کتاب کے بارے میں راقم کہہ سکتا ہے کہ یہ سیاسی اور سماجی تاریخ پر مرتب کردہ ایک عمدہ کتاب ہے جس میں انگریزی اور بنگالی کے بنیادی ماخذوں سے استفادہ کرتے ہوئے سودیشی تحریک کے اُبھرنے کا جائزہ لیا گیا جبکہ پس منظر میں بڑھتی ہوئی ہندو مسلم کشیدگی اور صوبہ کی تقسیم بھی موجود تھی ۔ ان کی ایک اور کتاب جسے ہم ان کے جاندار مضامین کا مجموعہ کہہ سکتے ہیں یہ کتاب ہے Writing Social History جس کی اشاعت 1997 ء میں عمل میں آئی جس میں رام کرشن اور ودیا ساگر جیسی شخصیتوں کے تنقیدی جائزوں کے ساتھ کلکتہ میں سیاسی نظریات کی تشکیل میں ذات پات کے رول اور تاریخ نویسی کی ان کی روایات پر مضامین بھی شامل ہیں۔ آپ کو بتادوں کہ مذکورہ دونوں کتابیں مطالعہ اور بار بار مطالعہ کرنے کے قابل ہیں لیکن سمیت سرکار کی سب سے اہم کتاب ’’ماڈرن انڈیا‘‘ تھی جو نوآبادیاتی حکمرانی کی آخری دہائیوں اور عوامی قوم پرستی کے منظرعام پر آنے کی ایک شاندار اور جامع تاریخ ہے ۔
اس کتاب کے دیپاچہ میں سمیت سرکار نے اپنے دو مقاصد بیان کئے ہیں ۔ انھوں نے اپنے پہلے مقصد کے بارے میں بتایاکہ سیاسی سماجی اور معاشی تاریخ کے مخصوص مسائل پر حالیہ برسوں میں شائع ہونے والی بے شمار تحقیقی کتابوں کے ذریعہ منظرعام پر آنے والے وسیع مواد کو یکجا کرنا ہے۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ قوم پرستی پر مبنی تاریخ نویسی کے متبادل کے طورپر نیچے سے تاریخ History From Below کے امکانات کو اُجاگر کرنا کیونکہ قوم پرستی کی تاریخ نویسی زیادہ تر قائدین کی سرگرمیوں ، نظریات یا باہمی گروہی چالوں پر توجہ مرکوز کرتی رہی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں مقاصد شاندار طریقے سے پورے ہوئے ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت میں سارے ہندوستان کی تاریخ ہے جس میں برصغیر کے مختلف علاقوں کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ایک اور اہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں قبائلیوں اور کسان تحریکیوں کو اتنی ہی اہمیت دی گئی جتنی کانگریس جیسی بڑی قوم پرست جماعت کی سرگرمیوں کو دی گئی ۔ اس کے علاوہ ہندو ۔ مسلم تنازع کی شروعات اور آزادی و تقسیم ہند کے حالات کو بڑی گہرائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ 43 سال کے بعد بھی یہ اس دور کی بہترین اور جامع تاریخی کتاب ہے ۔
دوسری طرف ماڈرن انڈیا میں ذات پات پر جس طرح توجہہ دی گئی وہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سمیت سرکار کا مارکسزم کس قدر روایات سے ہٹ کر ایک اور شکل اختیار کرچکا ہے ۔ سمیت سرکار نے گاندھی جی کی سیاست اور ان کے پیام عدم تشدد کا بھی جائزہ لیا اور اس نیتجہ پر پہنچے کہ گاندھی کی سیاست میں ایک اہم اخلاقی پہلو موجود تھا ۔ واضح رہے کہ سمیت سرکار ای بی تھامسن جیسے مورخ کو بہت زیادہ سراہتے تھے کیونکہ وہ بھی اُن ہی کی طرح ایک انتہائی غیرروایتی مارکسسٹ تھے اور کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر تھے ۔ وہ تھامسن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُنھیں سب سے زیادہ جس شخصیت نے متاثر کیا وہ تھامسن ہی تھے ۔