نئی دہلی : ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے والے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو سال 2017میں دہلی کی پٹیالیہ ہاؤس عدالت نے دہشت گردی کے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا تھا جس کے بعد ان کی جیل سے رہائی بھی ہوگئی تھی لیکن استغاثہ نے سیشن عدالت کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا جسے استغاثہ نے اب واپس لے لیا ہے ۔جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے استغاثہ کی جانب سے داخل پٹیشن کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مولانا انظر شاہ کو نوٹس جاری کیا تھا، عدالت کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء کرناٹک نے ایڈوکیٹ ایم ایس خان کو مولانا انظر شاہ کے دفاع میں مقرر کیا تھا جنہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں مولانا انظر شاہ کا کامیاب دفاع کیا۔
اس مقدمہ میں کل پندرہ سماعتیں ہوئیں اس کے باوجود استغاثہ دہلی ہائی کورٹ کو قائل نہیں کرسکا کہ نچلی عدالت کا فیصلہ غلط ہے ۔ اس کے برخلاف ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالت کا فیصلہ ملزم کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کی بنیاد پر دیا گیا تھا، استغاثہ کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن میں کوئی قانونی پہلو نہیں ہے بلکہ یہ ملزم کو پریشان کرنے کے لیئے داخل کی گئی ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سریش کمار کیت اور جسٹس شیلندر کو ر نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد استغاثہ کو کہا کہ وہ ان کی عرضداشت مسترد کرنے جارہے ہیں جس پر استغاثہ نے کہا کہ ان کی عرضداشت مسترد نہ کی جائے وہ اسے واپس لیتے ہیں۔