مکرم جاہ بہادر کی تدفین ، یہ کیسے سرکاری اعزازات ہیں ؟

   

چیف منسٹر کے سی آر کھمم جلسہ میں شریک رہیں گے ، صرف عہدیداروں کے لیے احکام کی اجرائی
حیدرآباد۔16جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے آصف ثامن کے سانحہ ٔ ارتحال پر سرکاری اعزازات کے ساتھ تجہیز و تکفین کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ کیسے سرکاری اعزازات ہیں اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے گا کیونکہ 18جنوری کو مکرم جاہ بہادر کی تدفین ہوگی اور اسی دن چیف منسٹر ملک کی دیگر ریاستوں کے چیف منسٹراں کے ہمراہ ریاست کے ضلع کھمم میں بھارت راشٹر سمیتی کے جلسہ عام میں شرکت کریں گے۔ سرکاری اعزازات محض سلامی دینا یا متوفی کو خراج پیش کرنا نہیں ہوتا بلکہ ریاست میں سوگ کا اعلان کیا جانا ہوتا ہے لیکن حکومت تلنگانہ کی جانب سے چیف منسٹر نے مکرم جاہ بہادر کے انتقال کے ساتھ ہی چیف سیکریٹری محترمہ شانتی کماری کو ہدایت جاری کردی کہ وہ مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ یقینی بنائیں لیکن بھارت راشٹرسمیتی کے جلسہ کے شیڈول میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ لائے جانے پر عوامی گوشوں میں یہ تبصرہ کیا جا رہاہے کہ ’یہ کیسے سرکاری اعزازات ہیں ‘؟ کہ چیف منسٹر کا جلسہ بھی منعقد ہورہا ہے اور سرکاری اعزازات کے ساتھ تجہیز و تکفین کا عمل بھی جاری ہے!ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری اعزازات کے ساتھ مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین کے انتظامات کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے محض مشیر حکومت کو ان امور کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے کسی بھی کابینی وزیر کو تجہیز و تکفین کے امور کا نگران بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے شیڈول میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پہنچنے کا کوئی پروگرام شامل ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ بعض گوشوں کی جانب سے چیف منسٹر کو مکرم جاہ بہادر کے جسد خاکی کے آخری دیدار اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن بعض گوشوں کی جانب سے انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کا بھی مشورہ دیا جا رہاہے کیونکہ مکرم جاہ بہادر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے چیف منسٹر کے پہنچنے کی صورت میں بی جے پی کی جانب سے ان پر تنقید کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے جبکہ چیف منسٹر خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کے استقبال سے زائد از 4مرتبہ دور رکھتے ہوئے بی جے پی کی تنقیدوں کا سامنا کرچکے ہیں ۔مسٹر کے چندر شیکھر راؤ تحریک تلنگانہ کے دوران مسلسل نظام دکن و آصف جاہی سلاطین کی خدمات کی ستائش کرتے رہے لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے وہ بتدریج نظام دکن کا تذکرہ کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں ۔چیف منسٹر کے مکرم جاہ بہادر کو خراج کی پیشکشی کے سلسلہ میں جاری تجسس کے دوران کہا جا رہاہے کہ وہ مکرم جاہ کے جسد خاکی کے حیدرآباد پہنچنے کے ساتھ ہی آخری دیدار کے لئے پہنچ سکتے ہیں کیونکہ 18 جنوری کو وہ کھمم کے جلسہ عام کے سلسلہ میں بے حد مصروف ہیں کیونکہ کھمم روانگی سے قبل وہ چیف منسٹرس کے ساتھ ناشتہ پر ملاقات کریں گے اور بعد ازاں جلسہ عام میں پہنچنے سے پہلے وہ یدادری مندر میں درشن کے لئے روانہ ہونے والے ہیں جہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ دیگر چیف منسٹرس کے ساتھ کھمم روانہ ہوجائیں گے۔م