مہاراشٹرا کے 20 وزراء میں سے 15 کو فوجداری مقدمات کا سامنا

   

ممبئی: اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آڑ) نے مہاراشٹرا میں 3 دن قبل ایکناتھ شندے حکومت کی کابینہ میں حلف لینے والے وزرا کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق مہاراشٹرا کے 75 فیصد وزرا کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے ہیں۔ اس کا اعلان خود وزرا نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں کیا ہے۔خیال رہے کہ مہاراشٹرا میں ایکناتھ شندے نے وزیر اعلیٰ اور فڑنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا، اس کے بعد کافی دنوں تک کابینہ کی توسیع پر غوروخوض جاری رہا اور 41 دن بعد 9 اگست کو پہلی توسیع کی گئی۔ مہاراشٹرا حکومت میں اب وزیر اعلی سمیت وزرا کی تعداد 20 ہے۔کابینہ میں توسیع کے بعد اے ڈی آر اور مہاراشٹرا الیکشن واچ نے 2019 میں اسمبلی انتخابات کے دوران پیش کیے گئے تمام وزرا کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا۔ تجزیہ کے مطابق، 15 (75 فیصد) وزرا نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے اور 13 (65 فیصد) نے اپنے خلاف سنگین فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ تمام وزرا کروڑ پتی ہیں اور ان کے اثاثوں کی اوسط قیمت 47.45 کروڑ روپے ہے۔اے ڈی آر نے کہا کہ سب سے زیادہ اعلان کردہ اثاثوں کے مالک وزیر منگل پربھات لودھا ہیں، جو مالابار ہل سیٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔