مہارشٹرا‘ ہریانہ اسمبلی الیکشن‘ 303سے زیادہ کے بعد370نے اس مرتبہ کوئی بڑا جادو نہیں دیکھایا ہے

,

   

مہارشٹرا‘ کے علاوہ ہریانہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی جواپنے 303لوک سبھا سیٹیوں پر سوار ہے ارٹیکل 370‘ او رغیر ملکی تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالنے کے اعلان کے علاوہ سارے ملک میں قوم رجسٹرار برائے شہریت نافذ کرنے کے اعلان کے باوجود دونوں ریاستوں میں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

دونوں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر اور منسٹر امیت شاہ نے جمعرات کے روز مہارشٹرا اور ہریانہ کے نتائج پر پارٹی ورکرس کی ستائش کی اور انہیں مبارکباد دی۔

حالانکہ مذکورہ پارٹی نصف نشان کے نیچے ہیں‘ مودی نے ہریانہ کے نتائج کو ”غیر معمولی“کامیابی قراردیا ہے‘اور حوالہ دیا کہ پارٹی کے تین فیصد ووٹ شیئر میں پچھلے اسمبلی الیکشن کے مقابلے اضافہ ہوا ہے اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کیاکہ 2014سے قبل بی جے پی ایک چھوٹی کھلاڑی تھی جس نے ریاست میں دوبارہ اقتدار حاصل کیاہے۔

تاہم پارٹی ہیڈ کوارٹر میں جشن کے کم طریقے کو غلط نہیں سمجھا گیا

۔مہارشٹرا‘ کے علاوہ ہریانہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی جواپنے 303لوک سبھا سیٹیوں پر سوار ہے ارٹیکل 370‘ او رغیر ملکی تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالنے کے اعلان کے علاوہ سارے ملک میں قوم رجسٹرار برائے شہریت نافذ کرنے کے اعلان کے باوجود دونوں ریاستوں میں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

انڈین ایکسپر یس سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیا جو2014میں بی جے پی کی جیت کے وقت ہریانہ کے انچارج تھے نے کہاکہ ”مذکورہ وزیراعظم کی مقبولیت اور شاہ کے تعلقات نے دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لایاہے۔

مذکورہ پارٹی زمینی سطح پر بہترین مائیکرو مینجمنٹ کرسکتی ہے۔

ہمارے کارکن ووٹ حاصل کرنے کے حمایت جٹانے میں ماہر ہیں“۔ مذکورہ بی جے پی جس نے لوک سبھا الیکشن میں 90اسمبلی حلقو ں میں 70میں آگے رہی تھی مگر پانچ ماہ کے اندر وہ چالیس تک سکڑ گئی۔

حالانکہ نریندرمودی اور امیت شاہ دونوں نے ملک کراپنے جلسوں میں ارٹیکل370اور کشمیر کو اجاگر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

مذکورہ دوریاستوں میں مودی نے اکٹوبر21کے الیکشن کے پیش نظر16ریالیاں کی تھیں‘جبکہ امیت شاہ نے پچیس ریالیوں سے خطاب کیا۔