میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب : ایمنسٹی انٹرنیشنل

   

یانگون : ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی ’’معتبر معلومات‘‘ موجود ہیں کہ میانمار کی فوج نے ریاست کایہ میں بارودی سرنگیں نصب کی ہیں۔ ان بارودی سرنگوں نے عام شہریوں کو زخمی اور ہلاک بھی کیا ہے۔ ایمنسٹی نے میانمار کی فوج کی جانب سے ‘بڑے پیمانے پر‘ بارودی سرنگوں کے استعمال کو جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔ محققین نے تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب میانمار کی ریاست کا دورہ کیا۔ وہاں انہیں ایسے معتبر شواہد ملے کہ فوج کی جانب سے چاول کے کھیتوں اور چرچ کے ارد گرد بھی بارودی سرنگیں بچھائی گئیں۔ ان بارودی سرنگوں سے شہری زخمی اور ہلاک بھی ہوئے۔ ایمنسٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میانمار کی جانب سے اپنی ہی آبادی کے خلاف بارودی سرنگوں کے ”ظالمانہ اور گھناؤنے‘‘ استعمال پر اس ملک کے خلاف کارروائی کرے۔مسلح افواج کی طرف سے فروری 2021 ء میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملکی قیادت کو فوجی جنتا کو سونپ دیے جانے کے بعد سے حالیہ مہینوں میں لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ایمنسٹی کے تفتیش کاروں نے تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب ریاست کایہ (جسے پہلے کیرنی اسٹیٹ کہا جاتا تھا) کا سفر کیا، جہاں انہوں نے بارودی سرنگ سے بچ جانے والے، طبی کارکنان جنہوں نے ان کا علاج کیا تھا، اور کلیئرنگ آپریشنز میں شامل دیگر افراد سمیت 43 افراد کا انٹرویو کیا۔