میدک :گرام پنچایت کارکنوں کا احتجاج

   

میدک ۔13 جون ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع گرام پنچایت کارکنوں کے دیرینہ مسائل کی یکسوئی اور انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع میدک کلکٹریٹ کے روبرو گرام پنچایت کارکنوں نے احتجاجی دھرنا منظم کیا اور بعد ازاں ضلع کلکٹر پرتیما سنگھ کو ایک یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر سی آئی ٹی CITU یو ضلع خزانچی کے نرسمّاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایت کارکنوں کو من مانی طور پر ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے، جس پر حکومت کو فوری مداخلت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سال 2000 سے قبل گرام پنچایتوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو اہلیت، تجربہ اور سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیات دی جانی چاہئیں۔ سابقہ حکومتی احکامات جی او نمبر 112 اور 212 کے تحت پانچ تا دس سالہ خدمات رکھنے والے ملازمین کو مرحلہ وار مستقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق حکومت نے جی او نمبر 69 کے تحت پنچایت سکریٹریوں کی تقرری دیگر محکمہ جات کے ملازمین سے کرتے ہوئے موجودہ پنچایت عملے کے ساتھ ناانصافی کی۔مقررین نے کہا کہ 2018 میں جی او نمبر 51 کے تحت ملٹی پرپز ورکر نظام متعارف کروا کر مختلف زمروں کو ختم کردیا گیا، جس کے نتیجہ میں کارکنوں کی ملازمتوں کا تحفظ متاثر ہوا ہے۔ کارکن قائدین نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت اپنے انتخابی منشور کے مطابق تمام گرام پنچایت کارکنوں کو مستقل کرتے ہوئے کم از کم 26 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کرے، تنخواہیں گرین چینل کے ذریعہ براہ راست کارکنوں کے بینک کھاتوں میں جمع کی جائیں اور انہیں دوسرے پی آر سی میں شامل کیا جائے۔