میر عالم تالاب پر ناجائز قبضہ کی کوششیں جاری

   

کئی مہینوں سے بھرنتی ، کشن باغ ، بہادر پورہ اور کالا پتھر اور تاڑبن کے مکینوں کو خطرہ
حیدرآباد۔30 ۔نومبر(سیاست نیوز) میر عالم تالاب پر جاری ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے لئے رکن پارلیمنٹ حیدرآبادو صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی کی نمائندگی کے باوجود عید گاہ میر عالم کے عقب میں تالاب میں ملبہ بھرنے کا کام جاری ہے اور تالاب میں ڈالی جانے والی بھرت کے ذریعہ میر عالم تالاب کے اطراف اراضی کو مسطح کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ نہ صرف میر عالم تالاب کے اطراف کے مکینوں کے لئے بلکہ کشن باغ ‘ بہادر پورہ‘ تاڑبن اور کالا پتھر کے مکینوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے میر عالم تالاب میں ملبہ ڈالتے ہوئے اسے مسطح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں مختلف گوشوں سے توجہ دہانی کے باوجود مسئلہ کو متعلقہ حکام بالخصوص حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ محکمہ آب پاشی کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے تالاب پر کئے جانے والے قبضہ کو نظرانداز کیاجاتا رہا ہے لیکن اب متعلقہ رکن پارلیمنٹ کی جانب سے ان قبضوں کو برخواست کروانے کے لئے توجہ دلوائی جانے کے باوجود ملبہ ڈالتے ہوئے تالاب پر قبضہ کا سلسلہ جاری ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ میں موجود اس وسیع و عریض تالاب کو ترقی دینے کے اقدامات کے سلسلہ میں متعدد اعلان کئے گئے لیکن ان پر عمل آوری نہیں ہوئی بلکہ اب تالاب پر کئے جانے والے قبضہ کی عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی پشت پناہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیدارخود لینڈ گرابرس کو تالاب مسطح کرنے کے طریقہ کارسے واقف کروانے میں مصروف ہیں۔ تالاب میں پانی جمع ہونے کے راستوں کو بند کئے جانے اور تالاب کے شکم کو کم کرتے ہوئے لینڈ گرابنگ کے نتیجہ میں اطراف و اکناف کے علاقوں کے عوام کو چند برس قبل حافظ بابا نگر کے عوام کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑاتھا اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے میر عالم تالاب کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں رہنے والے عوام اپنے تحفظ کے لئے میر عالم تالاب کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جدوجہد شروع کریں تاکہ اس قدرتی تالاب کے تحفظ کے ذریعہ اس میں جمع ہونے والے پانی کی گنجائش جوں کی توں برقرار رہے ‘ اگر تالاب پر قبضہ کا سلسلہ یوں ہی جاری رہتا ہے اور حکام اسے برخواست کروانے کے اقدامات نہیں کرتے ہیں تو ایسی صورت میں میرعالم تالاب سے پانی کے اخراج میں اضافہ شہریوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔م