میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے

   

نئی دہلی، 10 جون (یو این آئی) مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار محترمہ میناکشی نٹراجن کا نامزدگی پرچہ خارج ہونے کے ایک دن بعد پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چہارشنبہ کو یہاں الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور محترمہ نٹراجن کا نامزدگی پرچہ فوری طور پر قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے سینئر رہنما ابھشیک منو سنگھوی نے کمیشن سے ملاقات کے بعد نرواچن سدن کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نامزدگی پرچہ منسوخ کرنے کا انتخابی افسر کا فیصلہ سراسر غلط ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں سے ملاقات کر کے اس سلسلے میں اپنا موقف پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چہارشنبہ کادن راجیہ سبھا الیکشن کے لیے نام واپس لینے کی آخری تاریخ ہے اور کمیشن کے پاس ابھی بھی کافی وقت ہے ۔ کانگریس نے کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر محترمہ نٹراجن کے نامزدگی پرچے کو قبول کرے ۔

مسٹر سنگھوی نے کہا کہ کانگریس رہنماؤں نے کمیشن کو بتایا ہے کہ منگل کو مدھیہ پردیش سے پارٹی کی راجیہ سبھا امیدوار محترمہ میناکشی نٹراجن کا نامزدگی پرچہ منسوخ کیا گیا، جبکہ ان کے خلاف کوئی مجرمانہ یا ایسا دوسرا معاملہ نہیں ہے جو نامزدگی منسوخ کرنے کی بنیاد بن سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی افسر کا فیصلہ پوری طرح سے بے بنیاد اور قانون کے خلاف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انصاف کرنے اور غلطیوں کو سدھارنے کا اختیار ہے ۔ کانگریس کو امید ہے کہ کمیشن اس حقیقت کو سمجھے گا کہ کسی امیدوار کو مساوی موقع سے محروم کرنا جمہوریت کی اصل روح کے منافی ہے ۔ پارٹی نے کمیشن سے نامزدگی منسوخ کرنے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کی گزارش کی ہے ۔