عوام پر 13,530کروڑ روپئے کا قرض ، ہائیکورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد : 15جون ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داموجو شراون نے کانگریس حکومت اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر میٹرو ریل پراجکٹ کے نام پر ایک بہت بڑے مالیاتی گھپلے کا سنگین الزام عائد کیا ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے داموجو شراون نے مطالبہ کیا کہ میٹرو ریل کی زمینوں اور خریداری کے معاملہ کی فوری طور پر ہائیکورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر اپنے چنندہ بے نامی افراد کے حوالے کرنے کی منظم کوششک ررہے ہیں ۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے دریافت کیا کہ میٹرو ریل کو اتنی کم قیمت میں کیوں خریدا گیا ۔ حکومت آخر کس بنیاد پر تلنگانہ کے عوام پر 13,530 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ عائد کررہی ہے ۔ داموجو شراون نے موجودہ انتظامیہ کونااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی کے پاس تجربے اور سمجھ بوجھ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ کی ترقی رک گئی ہے ۔ کانگریس کی جانبسے میٹرو ریل پراجکٹ میں تاخیر کیلئے سابق چیف منسٹر کے سی آر کو ذمہ دار قرار دینے کی سخت مذمت کی ۔ بی آر ایس کے قائد نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ میں اصل تاخیر ماضی کی کانگریس حکومتوں کے چیف منسٹرس کی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ کے سی آر کے اقتدار میں آنے کے بعد اس پراجکٹ کو کامیابی سے نہ صرف چلایا گیا بلکہ حیدرآباد کی تاریخی یادگاروں ، مساجد اور مندروں کو بھی نقصان سے محفوظ رکھتے ہوئے میٹرو ریل کو مکمل کرنے کا تاریخی سہرا بھی کے سی آر کے سر جاتا ہے ۔ داموجو شراون نے کہا کہ موجودہ چیف منسٹر کو حیدرآباد کی تاریخ اور یہاں کے ثقافتی یادگاروں کا کوئی احترام نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترقی کے نام پر مساجد اور منادر کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ، یہاں تک مذہبی جذبات کوبھی ٹھیس پہنچایا جارہا ہے ۔ 2