ٹرمپ کی پہلی میعاد سے ہی میئر لندن کے ساتھ ان کی کبھی نہیں بنی ، مسلم ممالک پر لگائی گئی پابندیوں پر صادق خان نے ٹرمپ پر تنقید کی تھی
لندن: لندن کے میئر صادق خان نے نومنتخب امریکی صدر پر الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ انہیں اس لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور مختلف رنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔میئر لندن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ایک غیر معمولی لفظی جنگ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران ہی شروع ہو گئی تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب میئر صادق خان نے بعض مسلم ممالک کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے لگائی گئی سفری پابندیوں پر تنقید کی تھی۔میئر صادق خان کی اس تنقید پر صدر ٹرمپ نے انہیں سخت اور توہین آمیز قسم کے القابات سے نوازا۔ ٹرمپ نے ان پر دہشت گردی کے خلاف بہت برا کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں کولڈ اسٹوری لوزر (جو انگریزی کی اصطلاحات ہیں) اور’ ’’ونگا‘‘قرار دیا تھا۔بعد ازاں ٹرمپ نے 2018 میں برطانیہ کا دورہ کیا تو میئر نے اس موقع پر ٹرمپ کے خلاف مظاہرین کو پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاج کرنے کی اجازت دی۔ تاہم 5 نومبر کے امریکی صدارتی انتخاب کیلئے مہم کے دوران میئر لندن کا ایک پوڈ کاسٹ میں انٹرویو ہوا تو انہوں نے کہا ماضی میں ناقابل یقین حد تک ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا ‘ اگر میرا رنگ یہ نہ ہوتا اور عمل کرنے والا مسلمان نہ ہوتا تو وہ یعنی ٹرمپ ان کے بارے میں کچھ نہ کہتے جو انہوں نے کہا تھا۔ وہ صرف اس لیے بے تکلفی میں مجھے وہ سب کچھ کہتے رہے تھے کہ میرا رنگ اور مذہب مختلف تھا۔صادق خان نے مزید کہا اس عرصہ کے دوران وہ کسی ایسی شخصیت کے خلاف بول رہے تھے جس کی پالیسیاں جنس پرست، ہم جنس پرست، اسلام مخالف اور نسل پرستانہ تھیں۔خیال رہے ٹرمپ کے بارے میں میئر صادق خان کے تازہ ترین تبصرے جولائی میں بر سر اقتدار آئی برطانوی لیبر پارٹی میں ان کے دوسرے ساتھیوں کے بالکل برعکس ہیں۔تاہم موجودہ وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سمیت کئی سینئر سرکاری عہدے داروں نے ٹرمپ پر اس وقت سخت تنقید کی تھی جب ٹرمپ کے پچھلے دور صدارت میں برطانوی لیبر پارٹی اپوزیشن بنچوں پر تھی۔ ان میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی تھے۔لیمی نے 2018 میں ٹرمپ کو عورت سے نفرت کرنے والا نیا نازیوں سے ہمدردانہ سماجی رویے کا حامل قرار دیا تھا۔ لیکن گزشتہ ہفتے برطانیہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے ان ریمارکس کو پرانی خبر قرار دے دیا۔