نئے کویڈ تناؤ ملنے پر رپورٹ کے لئے تمام ممالک کا ڈبلیو ایچ او نے اجلاس طلب کیا

,

   

جنیوا۔دی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے تمام ممالک سے سفارش کی ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے ایس اے آر ایس سی او وی۔2کے حیاتیاتی سلسلہ میں اضافہ کریں اور اگر کرونا وائرس کا نیا تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے یا ملتا ہے اس کو اطلاع دیں‘ ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ برائے روس ملیتا ویجونویک نے منگل کے لئے اسپوتنیک کویہ بات بتائی ہے۔

ایک ایسے وقت میں یہ اپیل سامنے ائی ہے جب یوکے میں ایس اے آر ایس۔

سی او وی۔2وائرس کاتناؤ ایک ہفتہ قبل دستیاب ہوا ہے جو70فیصد پرانے کرونا وائرس سے زیادہ لوگوں میں پھیلنے والا ہے۔

کئی ممالک جس میں فرانس‘ روس اور نیدر لینڈس شامل ہیں نے یوکے سے آنے والے تمام مسافر پروازوں پر روک لگادی ہے تاکہ نئے کرونا وائرس تناؤ سے بچنے کے لئے اہمیت کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایاگیاہے۔

ویجونویک نے کہاکہ”مذکورہ ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک سے سفارشات کی ہے کہ جہاں ہوسکے وہاں پر ایس اے آر ایس۔سی او وی۔2میں حیاتیاتی سلسلہ میں اضافہ کریں اور تفصیلات اور اس سلسلے پر تفصیلات کا تبادلہ انٹرنیشنل سطح پر کریں‘ بالخصوص تشویش پیدا کرنے والے تغیرات کی دریافت کی اطلاعات ضرور دیں“۔

مذکورہ نمائندے نے مزیدکہاہے کہ ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک کواس بات کا بھی مشورہ دیاہے کہ وہ بنیادی صحت عامہ اور سماجی اقدامات کو لازمی کرلیں‘ جس میں جانچ اور ایک دوسرے سے وباء کا پھیلنا شامل ہے ساتھ میں ائسولیشن اور قرنطین پر بھی سختی کے ساتھ عمل کریں‘

اس کے علاوہ ذاتی طور پر حفاظتی اقدامات جیسے ہاتھوں کی صفائی‘ سماجی دوری‘ اور حسب ضرورت ماسک پہننے کو لازمی کرلیں۔

پیر کے روز ویجونویک نے کہاکہ حالانکہ نیا تناؤ کہاجارہا ہے کہ آسانی کے ساتھ پھیلے گا‘ اس کا اموات کے تناسب پر اثرانداز ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔