نامعلوم ”بہہ خواہوں“ جانب سے ذاکر نائیک کو بھاری چندہ وصول ہوا ہے۔ ای ڈی کا بیان

,

   

انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”مبینہ طور پر اسلامک ریسرچ فاونڈیشن نے مقامی او ربیرونی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات‘ سعودی عربیہ‘ بحرین‘ کویت‘ عمان‘ ملیشیاء او ردیگر سے چندہ کی شکل میں کچھ فنڈس حاصل کئے ہیں“۔

نئی دہلی۔متنازع مبلغ ذاکر نائیک جسکے خلاف انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی مالی تغلب کارئیوں کی جانچ چل رہی ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں کئی سالوں سے اپنے تقاریر کے ذریعہ

مبینہ طور پر”دہشت گرد“ سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے نامعلوم”بہہ خواہوں سے“ کروڑ ہا روپیوں کو فنڈس حاصل کیاہے۔

پی ٹی ائی نے انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مذکورہ اسلامک ریسرچ فاونڈیشن (ائی آر ایس) ممبئی نژاد چیارٹی ٹرسٹ پر نائیک کا کنٹرول ہے

اور اس انہوں نے فروغ دیاہے نے” انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”مبینہ طور پر اسلامک ریسرچ فاونڈیشن نے مقامی او ربیرونی ممالک

جیسے متحدہ عرب امارات‘ سعودی عربیہ‘ بحرین‘ کویت‘ عمان‘ ملیشیاء او ردیگر سے چندہ کی شکل میں کچھ فنڈس حاصل کئے ہیں“۔

سال2016میں نائیک کے خلاف قومی تحقیقاتی ادارے(این ائی اے) کی جانب سے مقدمہ درج کئے جانے کے بعد ای ڈی نے بھی مالی تغلب کارائیوں پر مشتمل ایک مقدمہ درج کیاہے۔

نائیک کو بھگوڑا قررادیاگیا ہے۔ مقدمہ درجسٹرارڈ ہونے کے بعد پناہ گزین کی حیثیت سے نائیک ملیشیاء میں مقیم ہیں۔

ای ڈی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ائی آر ایف نے کئی بینک کھاتے ہیں جس میں یہ رقم جمع کرائی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”مذکورہ بینک کھاتے سٹی بینک‘ ڈی سی بی بینک لمیٹیڈ‘ اور یونین بینک آف انڈیا میں ہیں“۔

ایجنسی کاکہنا ہے کہ ائی آر ایف کے بینک اکاونٹس میں 2003-04سے لے کر2016-17کے دوران جملہ رقم جو جمع کرائی گئی ہے وہ 64.86کروڑ ہے۔ مذکورہ ای ڈی کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”عطیہ دہندگان نامعلوم ہیں کیونکہ رسید میں ان کا نام ”بہہ خواہ“ کے طور پر لکھاگیاہے۔

کیونکہ عطیہ نقد میں دیاگیا ہے اس کی وجہہ سے عطیپ دہندگان کی تفصیلات رسید پر موجود ہیں‘جس کی وجہہ سے ایجنسی کو بوگس یا فرضی ہونے کا شبہ پیدا ہوا ہے“۔

ای ڈی کاکہنا ہے کہ ”اس فنڈس میں سے زیادہ تر پیسوں کا استعمال ”پیس کانفرنس“ کے انعقاد کے لئے کیاجاتا ہے‘ اس کے علاوہ سامان کی خریدی‘ تنحواہوں کی اجرائی بھی عمل میں لائی جاتی تھی۔

آرائی ایف کی زیرنگرانی نائیک کی قیادت میں ای آر ایف کی سالانہ ”پیس کانفرنس“ کا انعقاد عمل میں لایاجاتا رہا ہے۔

ای ڈی کے مطابق تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ نائیک کے زیادہ تر متنازع تقریریں 2007اور2011کے دوران ممبئی میں ائی آر ایف کی نگرانی میں منعقدہ پیس کانفرنس کے وقت دی گئی ہیں۔

ای ڈی کا دعوی ہے کہ ان تقریروں کے ذریعہ کئی نوجوانوں کو مذہب اسلام قبول کرنے کی ترغیب ملی اور انہیں ”دہشت گردانہ کارائیوں“ انجام دینے کا حوصلہ ملا ہے