ایچ ایم ڈی اے کی شیخ پیٹ سرائے کی تزئن نو پر توجہ ، دیگر سرائے کے تحفظ میں عدم دلچسپی
حیدرآباد۔30۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت تلنگانہ کے محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے نامپلی اور شیخ پیٹ سرائے کے تحفظ کے اقداما ت کاسال 2022 میں اعلان تو کیا گیاتھالیکن اس سلسلہ میں حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے محض شیخ پیٹ سرائے کے تحفظ ‘ تزئین نو اور آہک پاشی کے لئے ٹنڈر طلب کئے گئے ہیں جبکہ نامپلی سرائے کی حالت اب بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اس کے علاوہ شہر حیدرآباد کے جنوبی حصہ میں بھی حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے تیار کی گئی ہریٹیج عمارتوں کی فہرست میں علی آباد سرائے شامل ہے اور اسے I گریڈ کے تہذیبی ورثہ میں شامل رکھا گیا ہے اور گذشتہ 25 سال کے دوران زائد از 15مرتبہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے علی آباد سرائے کے تحفظ کے اقدامات کے اعلانات کئے گئے ہیں لیکن ان اعلانات پر عمل آوری کے معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے سبب تاریخی اہمیت کا حامل یہ ورثہ تیزی سے تباہی کا شکار ہونے لگا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں ہے بلکہ علی آباد سرائے کی تباہی کا تماشہ دیکھا جا رہاہے۔ سید علی چبوترہ سے شمشیر گنج جانے والی مصروف ترین سڑک پر موجود مسجد الماس کے زیریں حصہ میں زائد از 80 کمروں کے ساتھ یہ سرائے موجودتھی جو کہ فی الحال رہائشی نہیں بلکہ تجارتی اداروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ریاستی محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے نامپلی سرائے اور شیخ پیٹ سرائے کے تحفظ اور ان کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن سال 2012اور پھر سال 2017کے علاوہ 2019میں بھی علی آباد سرائے کی تزئین نو اور آہک پاشی کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب تک اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ سال 2012میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے علی آباد سرائے کو منہدم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن اس وقت تاریخی عمارتو ںکے تحفظ کرنے والے جہدکاروں کی جانب سے توجہ دہانی کے بعد اس بات کافیصلہ کیاگیا تھا کہ جی ایچ ایم سی علی آباد سرائے کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے چارمینار سے فلک نما کی اس مصروف ترین سڑک پر موجود علی آباد سرائے کے تحفظ کے علاوہ تزئین نو کے اقدامات کرے گی ۔ نامپلی سرائے ‘ شیخ پیٹ سرائے کے علاوہ شہر حیدرآباد میں کئی سرائے موجود تھے جن میں جامع مسجد افضل گنج سرائے ‘ مسجد میاں مشک سرائے کے علاوہ بوہرہ سرائے حسینی علم میں موجود ہیں لیکن اب میاں مشک سرائے جو کہ پرانا پل میں موجود ہے وہ بھی تجارتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں اور جامع مسجد افضل گنج سرائے بھی تجارتی اداروں میں تبدیل کئے جاچکے ہیں اسی طرح علی آباد سرائے بھی تجارتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ا ن کے تحفظ کے ذریعہ اس تاریخی ورثہ کو قابل دید بنانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے اگر علی آباد سرائے کے تحفظ اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر میں موجود تفریحی مقامات میں ایک اور تاریخی تفریحی مرکز کا اضافہ ہوسکتا ہے۔3