ناگرجنا ساگر میں جاناریڈی کی مقبولیت سے ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار

   

ٹی آر ایس سے دولت اور شراب کی تقسیم، رائے دہندوں کو دھمکیاں، فیروز خاں کانگریس قائد کی انتخابی مہم

حیدرآباد : ٹی آر ایس ناگرجنا ساگر میں کامیابی کیلئے حکومت کی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ کانگریس کو ووٹ دینے کی صورت میں ان کے نام اسکیم سے خارج کردیئے جائیں گے۔ جاناریڈی کی مقبولیت اور ان کی کامیابی کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی نے رائے دہندوں میں دولت اور شراب کی تقسیم کا آغاز کردیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر محمد فیروزخان نے ناگرجنا ساگر کی ہالیہ میونسپلٹی کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ رکن کونسل ٹی جیون ریڈی کے ہمراہ فیروز خان نے پدیاترا کے ذریعہ رائے دہندوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کئی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ترقیاتی ایجنڈہ سے واقف کرایا۔ محمد فیروزخان گذشتہ ایک ہفتہ سے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنشن اور دیگر اسکیمات کے دیڑھ لاکھ استفادہ کنندگان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تائید کے حصول میں ناکامی پر دولت اور شراب کی تقسیم شروع کی گئی۔ ٹی آر ایس رائے دہندوں کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے کانگریس دورحکومت کی اسکیمات کا نام تبدیل کرتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ناگرجنا ساگر میں ووٹ خریدنے کیلئے 100 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ فیروز خان نے جاناریڈی کی کامیابی کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں اور دیگر طبقات سے دھوکہ کیا ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ بھلا دیا گیا۔