ٹی آر ایس پر رقم اور شراب کی تقسیم کا الزام، چوتھے راؤنڈ سے ہی بی جے پی امیدوار مایوسی کا شکار
حیدرآباد۔/6نومبر، ( سیاست نیوز) نلگنڈہ ضلع کے منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدوار نے نتیجہ کے اعلان سے قبل ہی اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ٹی آر ایس پر شراب اور رقم تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی رائے شماری کے آغاز تک اپنی کامیابی کے بارے میں کافی مطمئن تھے اور رائے شماری مرکز میں داخل ہونے سے قبل انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ وہ خوشخبری کے ساتھ باہرآئیں گے۔ ابتدائی 4 راؤنڈ میں صرف ایک راؤنڈ ایسا تھا جس میں بی جے پی امیدوار کو ٹی آر ایس سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ چوتھے راؤنڈ میں جب چوٹ اوپل منڈل کے ووٹنگ مشینوں کو کھولا گیا تو وہاں بی جے پی امیدوار کو سخت مایوسی ہوئی۔ چوتھے راؤنڈ میں ٹی آر ایس کو 700 ووٹوں سے سبقت حاصل ہوئی۔ چوٹ اوپل منڈل کی گنتی کے بعد راجگوپال ریڈی رائے شماری مرکز کے باہر نکل گئے اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چوٹ اوپل میں توقع کے مطابق ووٹ حاصل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چوٹ اوپل کے کئی گاؤں سے انہیں کافی امید تھی لیکن نتیجہ میں مایوسی ہوئی ہے۔ راجگوپال ریڈی نے یقین ظاہر کیا تھا کہ آخری مرحلہ تک نتیجہ تبدیل ہوسکتا ہے لیکن گیارہویں راؤنڈ تک بھی بی جے پی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد راجگوپال ریڈی رائے شماری مرکز سے نکل گئے اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آر ایس پر شراب اور دولت کی تقسیم کے علاوہ اقتدار کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑ میں 100 ارکان اسمبلی اور وزراء کو تعینات کیا گیا۔ راجگوپال ریڈی نے کہا کہ اگرچہ ٹی آر ایس تعداد میں کامیاب رہی ہے لیکن اخلاقی طور پر میری جیت ہوئی ہے۔ر