یہ بھی کیا وقت کہ لاشوں کو کفن بھی نہ ملے
یہ بھی کیا عہد کہ مرحوموں سے غمخواری ہے
جہاں ملک کی اکثر شمالی ہند کی ریاستوں میں ہندو ۔ مسلم نفرت کو فروغ دیا گیا اور وہاں اب زندگی کے ہر مسئلہ کو ہندو ۔ مسلم نظریہ سے دیکھا جا رہا ہے اور سماج میں دوریاں پیدا کردی گئی ہیں ۔ کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کو عام نظریہ سے دیکھا جا رہا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے تعلق سے اندیشوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے ان کا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور انہیں ہر مسئلہ پر ہراساںکرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ حکومتوں کی جانب سے بھی مذہب دیکھ کر کارروائی کی جا رہی ہے ۔ کسی مسلمان سے کوئی معمولی سے غلطی بھی ہوتی ہے تو اس کے خلاف سارا انتظامیہ سرگرم ہوجاتا ہے اور اس کے گھر اور دوکان کو تک مسمار کردیا جاتا ہے ۔ ان پر بلڈوزر چلادیا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں یہ کہا جاتا تھا کہ جنوبی ہند اور خاص طور پر تلنگانہ و حیدرآباد اس سارے نفرتی ماحول سے دور ہے اور یہاں لوگ آپسی بھائی چارہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم یہ بھی اب محض ایک خوش فہمی ہی کہی جاسکتی ہے کیونکہ یہاں بھی ماحول پراگندہ اور آلودہ ہونے لگا ہے ۔ یہاں بھی وقفہ وقفہ سے اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے اور ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ گذشتہ دنوں شہر کے مضافاتی ریلوے اسٹیشن پر ایک مسلمان کو اس کے لباس اور داڑھی وغیرہ دیکھ کر ہراساں کیا گیا تھا ۔ اس کو مارپیٹ کی گئی تھی ۔ دو دن سے سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں ایک اپارٹمنٹ میں ایک مسلم خاندان کو نشانہ بنایا گیا ۔ انہیں پاکستانی قرار دیا گیا اور دیگر الزامات عائد کئے گئے ۔ حالانکہ یہ وہی خاندان ہے جس نے ایک لڑکی کو پناہ دی جسے اس کے مکان مالک نے گھر سے نکال دیا تھا ۔ ایک مسلم نوجوان خود کو پاکستانی قرا ر دینے پر شدید برہم ہوگیا اور اس نے یہ واضح کیا کہ اس کے دادا ہندوستانی فوج میںرہ چکے ہیں اور انہوں نے صوبیدار کی حیثیت سے فوج میں خدمات انجام دی ہیں۔ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں کہا جاسکتا ۔ اس سے سماج میں پنپنے والے زہر کا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سے ملک کے دو بڑے اور اہم طبقات کے درمیان نفرت پیدا کردی گئی ہے ۔
اس طرح کی صورتحال حیدرآباد میں پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی تھی جس طرح کی اب پیدا ہوگئی ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد ہوا کرتے تھے اور ایک دوسرے کا مذہب دیکھے بغیر ان کی مدد کیلئے آگے آتے تھے ۔ حیدرآباد کو گنگا جمنی تہذیب کا شہر کہا جاتا تھا اور ساری ریاست تلنگانہ میں بھی یہی صورتحال ہوا کرتی تھی ۔ تاہم حالات کو اس قدر پراگندہ کردیا گیا ہے کہ اب پڑوسی بھی ایک دوسرے سے اندیشوں کا شکار ہیں اور انہیں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جس طرح سے سارے ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو ان کے مذہب کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اسی طرح کی صورتحال حیدرآباد اور تلنگانہ میں بھی پیدا کردی گئی ہے ۔ اضلاع میں یہ صورتحال پہلے ہی سے شدت اختیار کرتی جار ہی تھی اور اب شہر اور مضافاتی علاقوں میں خاص طور پر یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ سیاسی مقاصد کیلئے جس طرح سے ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی ہے اوراسے فروغ دیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں سماج میں دوریاں پیدا ہوگئی ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کو جس طرح سے ہر کوئی پاکستانی یا جہادی قرار دے رہا ہے یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اور اس کا ازالہ کیا جانا چاہئے ۔ جو عناصر اس طرح کی سوچ اور ذہنیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اسے فروغ دے رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ ایسے عناصر کی سرکوبی اور حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے تاکہ ہمارے آس پاس کے ماحول کو زہر آلود ہونے سے بچایا جاسکے اور سماج میں نفرت اور دوریوں کو فروغ ملنے نہ پائے ۔
ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اوریہاں بے شمار مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں۔ صدیوں پرانی تاریخ رہی ہے کہ یہاں کئی مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہے ہیں اور رہتے ہیں۔ تاہم سیاسی شعبدہ بازوں نے ملک کے ماحول کو اس قدر زہرآلود کردیا ہے کہ اب لوگ مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کے مساویانہ حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ یہ صورتحال ملک کیلئے اچھی نہیں ہے ۔ سماج میں اس سے دوریاں پیدا ہونگی اور ملک کی ترقی متاثر ہوسکتا ہے ۔ نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ حکومتوں کو اس صورتحال کا نوٹ لیتے ہوئے ایسے واقعات کے تادکر کیلئے حرکت میںآنا چاہئے اور جو عناصر اس طرح کی زہریلی سوچ رکھتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔
بنگال میں سیاسی غنڈہ گردی کا عروج
مغربی بنگال میں جس وقت سے ترنمول کانگریس اقتدار سے بیدخل ہوئی ہے اور بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے ترنمول قائدین کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کے دفاتر اور مکانات پر حملے کئے جا رہے ہیں اور ان پر انڈے پھینکنے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ اب تو یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ ائرپورٹ پر بھی غنڈہ گردی کی جا رہی ہے ۔ گذشتہ شب ترنمول کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی جب دہلی سے واپس ہونے والے تھے ائرپورٹ پر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور ترنمول کا دعوی ہے کہ ان میں ایک دو ہتھیاروں سے بھی لیس تھے اور وہ ابھیشیک بنرجی پر حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ پارٹی نے اسے قتل کی کوشش بھی قرار دیا ہے ۔ انتخابی جیت اور ہار جمہوریت کا حصہ ہے اور سیاسی اختلافات کی بنیاد پر اس طرح کی کارروائیاں اور حملے انتہائی مذموم حرکت ہے اور اس کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ بنگال حکومت کو انتقامی جذبہ کی بجائے ترقیاتی ایجنڈہ کیساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کھلے عام غنڈہ گردی ناقابل برداشت ہے ۔ یہ روایت ہماری جمہوریت کے حق میںہرگز نہیں ہے اور اس طرح کے واقعات کا فوری سدباب کیا جانا چاہئے ۔