نوح: ہریانہ کے ضلع نوح میں انٹرنیٹ خدمات دوبارہ بند کر دی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ نے ضلع میں ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے 28 اگست کی رات 12 بجے تک موبائل انٹرنیٹ خدمات اور ایس ایم ایس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے نوح میں 28 اگست کو دوبارہ برج منڈل یاترا نکالنے کے اعلان کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے یہ فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر لیا ہے۔نوح ضلع انتظامیہ نے وی ایچ پی اور دیگر ہندو تنظیموں کو 28 اگست کو دوبارہ یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی ہے لیکن ہندو تنظیمیں یاترا نکالنے پر بضد ہیں۔نوح کے ڈی سی دھیریندر کھڈگتا نے 25 اگست کو محکمہ داخلہ کو ایک خط لکھ کر ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات اور ایس ایم ایس سروس پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاکہ برج منڈل یاترا نکالے جانے کی صورت میں کسی بھی قسم کے تشدد اور افواہوں کو روکا جاسکے۔اس سے قبل 31 جولائی کو نوح میں ہندو تنظیموں کی برج منڈل یاترا کے دوران تشدد ہوا تھا جس میں 6 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے بعد 31 جولائی سے 13 اگست تک ضلع نوح میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھی گئی۔ معمولات زندگی بحال ہونے کے بعد 13 اگست کی نصف شب 12 بجے انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں۔دوسری جانب ہندو تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 اگست کو نوح میں برج منڈل یاترا ضرور نکالیں گی۔ اگرچہ انتظامی ذرائع نے ضلع میں کشیدگی اور G-20 کانفرنس کے پیش نظر یاترا ملتوی کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن وی ایچ پی نے اس کی تردید کی ہے۔ وی ایچ پی کے قومی جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ28 اگست کو نوح میں پوری طاقت کے ساتھ برج منڈل یاترا نکالی جائے گی۔