نوٹ بندی کے تباہ کن اثرات کا سلسلہ جاری

   

پربھات پٹنائک
ملک کی آزادی کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کے نفاذ کا جو فیصلہ کیا اور اس پر عمل آوری کی، وہ سب سے تباہ کن معاشی قدم تھا اور مودی کی اس پہل نے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ آج بھی ملک نوٹ بندی کے تباہ کن اثرات سے گذر رہا ہے۔ 8 نومبر 2016ء کی تاریخ شاید کوئی ہندوستانی فراموش نہیں کرپائے گا۔ رات 8 بجے وزیراعظم مودی نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اچانک 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی نوٹوں کے چلن پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ نوٹ بندی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مودی نے ببانگ دہل کیا تھا کہ نوٹ بندی کے نافذ کرنے کے کچھ اغراض و مقاصد ہیں لیکن 2016ء سے اب تک وہ اغراض و مقاصد کی تکمیل میں بی جے پی حکومت ناکام رہی۔ جس رات مودی نے نوٹ بندی کے نفاذکا اعلان کیا تھا، اسی رات سے اس کی مخالفت شروع کردی گئی تھی، کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صرف اور صرف حکومت کو خوش کرنے کیلئے نوٹ بندی کی تائید کی اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ نوٹ بندی تباہ کن معاشی پہل ہے، اسے بہتر قدم قرار دیا، آپ کو پھر یاد دلاتے ہیں کہ حکومت نے نوٹ بندی نافذ کرنے کی جو وجوہات اور مقاصد بتائے، ان میں سب سے پہلا مقصد بلیک منی (سیاہ دھن) کا خاتمہ کرنا تھا جبکہ دوسرا مقصد جعلی کرنسی نوٹوں کے پھیلاؤ کو روکنا اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی خاطر دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ پر روک لگانا تھا، لیکن ان تینوں میں سے آخرالذکر دونوں مقاصد میں حکومت کو جس طرح ناکامی ملی، اس کے بارے میں سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اعداد و شمار سے متعلق ہندوستانی ادارہ نے اپنے ایک جائزہ میں بتایا کہ حکومت نے جعلی کرنسی سے متعلق جو کچھ بھی دعویٰ کئے، وہ جملہ کرنسی کا انتہائی معمولی حصہ ہے۔ ایسے میں جعلی کرنسی سے چھٹکارہ پانے کا دعویٰ کرتے ہوئے 85% کرنسی نوٹوں کا چلن اچانک روک دینا ٹھیک نہیں اور حکومت کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے مالیہ کی فراہمی مختلف روٹس اور چینلوں کے ذریعہ عمل میں لائی جاتی ہے، ایسے میں یہ کہنا کہ نوٹ بندی سے دہشت گردانہ تنظیموں کو مالیہ کی فراہمی کا عمل رک جائے گا، ناقابل فہم ہے اور یہ حقیقت عوام کے سامنے آگئی کہ حکومت کی نوٹ بندی سے دہشت گرد تنظیموں کو مالیہ کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس بارے میں یہی کہا گیا کہ مودی حکومت میں بلیک منی اور بالعموم معیشت کو سمجھنے کا فقدان پایا جاتا ہے، جہاں تک بلیک منی کا سوال ہے، اسے بالی ووڈ فلموں سے اخذ کیا گیا ہے جس میں دکھایا جاتا ہے کہ کرنسی نوٹ تکیوں میں بھری ہوتی ہیں، بیڈس کے نیچے چھپا کر رکھے گئے، سوٹ کیسوں میں پڑے ہوتے ہیں۔ مودی حکومت نے بلیک منی کو اپنے اس اقدام (نوٹ بندی) کے ذریعہ بینکوں یا سرکاری خزانوں میں واپس لانے سے متعلق امید ظاہر کی تھی لیکن بلیک منی رکھنے والے سامنے نہیں آئے جیسا کہ حکومت کو توقع تھی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوٹ بندی بلیک منی کی معاشی سرگرمیوں کو ختم کرنے میں بالکلیہ طور پر ناکام رہی۔ ہاں! نوٹ بندی سے بلیک منی رکھنے والوں کا بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ ان لوگوں نے بلیک منی کو ’’وائٹ منی‘‘ میں تبدیل کرلیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 500 اور 1000 روپئے مالیتی جن کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کی گئی، ان میں سے 99% کرنسی بینکوں میں واپس آگئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کرنسی کے بدلے نئے کرنسی نوٹ حاصل کئے گئے۔ اس سے بہ آسانی نوٹ بندی کی ناکامی کا اظہار ہوتا ہے۔ حکومت کو یہ توقع تھی کہ بلیک منی، وائیٹ منی سے تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ وہ اس طرح کی پہل کیلئے بہت زیادہ خوفزدہ ہوں گے اور انہیں پکڑے جانے کا خوف ہوگا اور وہ اپنی دولت کے بارے میں صحیح طور پر وضاحت نہیں کرسکیں گے جبکہ اس سارے عمل سے یہ قلعی کھل گئی کہ حکومت نے نوٹ بندی سے متعلق جو دعوے کئے تھے، وہ بالکل غلط نکلے۔ نوٹ بندی سے صرف یہ ہوا کہ پرانی کرنسی نوٹ، نئی نوٹوں سے تبدیل کی گئی ،ساتھ ہی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قطاروں میں لوگ فوت ہوئے، اس کے علاوہ نوٹ بندی کے ملک کی معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے جن نوٹوں کے چلن پر پابندی عائد کی گئی، وہ جملہ کرنسی نوٹوں کا 85% حصہ تھے اوراس قدر کثیر رقم کا چلن اچانک بند ہوجائے تو سنگین حالات پیدا ہوتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں مودی جی کے ناعاقبت اندیش فیصلے سے ایسا ہی ہوا۔ انہیں اپنی پیداوار کی فروخت میں کئی ایک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بیروزگاری کے نتیجہ میں ورکرس اور ان کے خاندان بہت پریشان ہوئے۔ خاص طور پر غیرمنظم شعبہ کے ملازمین (جو جملہ ملازمین کا 94% بنتا ہے) مقروض ہوکر رہ گئے۔ ایک اور اہم بات ہے کہ بی جے پی اور اس کے قائدین نے نوٹ بندی کے پہلے ہی دن سے جھوٹ پر جھوٹ کہنا شروع کردیا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔