نوپور شرما کو سپریم کورٹ سے ملی عبوری راحت‘ 10اگست تک کوئی گرفتاری نہیں

,

   

شرما کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے وکیل منیندر سنگھ نے عدالت کو بتایاکہ بی جے پی کی لیڈر کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اسی وجہہ سے وہ سفر کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔


بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کو منگل کیر وز سپریم کورٹ سے ایک بڑی راحت ملی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت دی ہے کہ شرما کی 10اگست تک کوئی گرفتاری نہیں ہوگی۔

سابق بی جے پی ترجمان نے ایک تازہ درخواست دائر کی تاکہ ان کی سابق کی تمام 9ایف ائی آروں کو اکٹھا کرنے کی گوہار لگائی جو ہندوستان بھر میں درج کئے گئے ہیں۔

شرما کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے وکیل منیندر سنگھ نے عدالت کو بتایاکہ بی جے پی کی لیڈر کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اسی وجہہ سے وہ سفر کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔۔

جسٹس سوریاکانت اور جے بی پردی والا نے احکامات جاری کئے۔اسی بنچ نے اس سے قبل شرما کی درخواست پر سنوائی سے یکم جولائی کو انکار کیاتھا۔بنچ نے اپنے احکامات میں کہاکہ”اس بات کا پتہ لگانے کے لئے جواب دہندگان کو10اگست تک جواب دینے کے لئے نوٹس جاری کی جائیں۔

نوٹس کے ساتھ مرکزی تحریری درخواست کی کاپیاں بھی شامل کریں۔ اسٹانڈنگ کونسل کے ذریعہ دستی او رخدمات کی آزادی دی جاتی ہے۔

درایں اثناء ایک عبوری قدم کے طور پر اس بات کی ہدایت دی جاتی ہے کہ درخواست گذار کے خلاف کوئی زبردستی کی کاروائی نہیں کی جائے گی جو26مئی کے روز نشر پروگرام کے ضمن میں ان پر مقدمات درج کئے گئے ہیں“۔


نوپور شرما کا تنازعہ
ٹائمز ناؤ گروپ ایڈیٹر ناویکا کمار کی جانب سے منعقدہ ایک ٹیلی ویثرن مباحثہ میں بی جے پی ترجمان نے شان رسالتؐ میں گستاخی کی تھی۔ اس پر ہر طرف سے تنقیدیں کی گئی مگر بی جے پی نے اس کو درست کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

جب خبرتیزی کے ساتھ عرب ممالک تک پہنچی جس نے عدم کاروائی پر نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت کو تنقید کانشانہ بنایا۔ اس بات کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ عرب ممالک جیسے سعودی عربیہ‘ کویت او ربحرین نے اپنے دوکانوں سے ہندوستانی مصنوعات کو بھی ہٹادیاتھا۔

اس ردعمل کے بعد مرکز نے ایک پریس ریلیز جاری کیااور کہاکہ ”کسی بھی مذہب اور مقدس ہستیوں کی توہین ناقابل برداشت ہے“۔

مذکورہ پارٹی نے شرما کو برطرف کردیا جس کے بعد انہوں نے عام معافی مانگی اورکہاکہ”اگر میرے الفاظ سے کسی کی دل آزادی ہوئی ہے او رناراضگی ہے تو میں معافی مانگتی ہوں اوراپنے بیان سے غیرمشروط دستبرداری اختیارکرتی ہوں“۔

اس کے توہین آمیز بیانات کی وجہہ سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پیش ائے اور یہ اترپردیش‘ جھارکھنڈ‘ جموں کشمیر‘ تلنگانہ‘ مغربی بنگال‘ دہلی اورکرناٹک میں زبردست احتجاجی مظاہرے پیش اے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دو مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے۔تاہم مذکورہ احتجاجی مظاہرے مظاہرین کے لئے موت ثابت ہوئے کیونکہ بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں انتظامیہ نے ان کے مکانات کو منہدم کرنا شروع کردیا۔