انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے روبرو پیشی ، تجارتی کمپنیوں کے منافع پر سوالات
حیدرآباد ۔6 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں تلنگانہ کے دو کانگریس قائدین آج انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے روبرو پیش ہوئے۔ سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی اور جی انیل کمار سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیداروں نے علحدہ علحدہ پوچھ تاچھ کی اور ان کے بیانات ریکارڈ کئے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کے پانچ کانگریس قائدین کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے نوٹس جاری کی تھی ۔ نیشنل ہیرالڈ کے ادارہ ینگ انڈیا میں کانگریس قائدین نے عطیہ دیا تھا جس پر منی لانڈرنگ قانون کے تحت نوٹس جاری کی گئی ۔ گیتا ریڈی اور جی انیل کمار کی پیشی کے بعد تین قائدین سے پوچھ تاچھ مکمل ہوچکی ہے۔ سابق وزیر محمد علی شبیر 3 اکتوبر کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے روبرو پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ گیتا ریڈی اور انیل کمار سے تقریباً ایک ایک گھنٹہ عہدیداروں نے مختلف سوالات کئے ۔ ینگ انڈیا کو عطیات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ عطیات چیک کی شکل میں دیئے گئے ہیں جو کہ ان کی تجارتی کمپنیوں کے منافع کی رقم سے ہے۔ انکم ٹیکس کی ادائیگی کے بعد یہ عطیات روانہ کئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر جے گیتا ریڈی نے ریکارڈ کردہ تحریری بیان کا بذات خود جائزہ لیتے ہوئے اس میں بعض تکنیکی خامیوں کو درست کیا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کانگریس قائدین کو اپنی کمپنیوں کے انکم ٹیکس ریٹرن اور بینک اسٹیٹمنٹ کی تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دیگر دو قائدین انجن کمار یادو اور سدرشن ریڈی کو تحقیقات کیلئے پیش ہونا باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سدرشن ریڈی کو 11 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے جبکہ انجن کمار یادو علالت کے باعث بعد میں پیش ہوں گے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں صدر کانگریس سونیا گاندھی اور رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے کرناٹک یونٹ کے صدر ڈی کے شیوا کمار کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے 7 اکتوبر کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ ر