مودی حکومت نے ایک بار پھر طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا : رندیپ سنگھ سرجے والا
نئی دہلی ۔19؍جولائی ( ایجنسیز )کانگریس کے سینئر لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے نیٹ ۔ری امتحان کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے بعد اب ری۔نیٹ کے نتائج بھی طلبہ کیلئے بھاجپائی دھوکہ دہی کی ایک نئی قسط ثابت ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ری۔ایگزام کی او ایم آر شیٹ میں ہیرا پھیری اور او ایم آر شیٹ و مارک شیٹ کے نمبروں میں بڑے فرق نے ایک بار پھر طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے!طلبہ کا کہنا ہیکہ انہوں نے جب اپنی او ایم آر شیٹ کو ’فائنل آنسر کی‘ سے ملایا تو ان کے نمبر کافی زیادہ تھے لیکن جب مارک شیٹ ملی تو نمبر اچانک کم ہو گئے! کئی طلبہ کے نمبر 15 سے لیکر 600 نمبر تک کم ہو گئے ہیں اسی وجہ سے جو طلبہ او ایم آر شیٹ کے مطابق امتحان پاس کر رہے تھے وہ اب کوالیفائی بھی نہیں کر پا رہے! سرجے والا کے مطابق جیسے تیسے امتحان نمٹانے اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کی قیادت میں اٹھتی ’چھاتروں کی گونج‘ سے گھبرائی مودی حکومت کے ٹول کٹ این ٹی اے نے دکھاوے کیلئے جلد بازی میں آنسر۔کی جاری کرنے کے محض 3 سے 4 گھنٹے بعد ہی رزلٹ کا بھی اعلان کر دیا! اتنی بڑی بے ضابطگی سامنے آئی ہیکہ جس طالبہ کے او ایم آر شیٹ کے مطابق 638 نمبر ہونے چاہیے تھے اسے فائنل رزلٹ میں صرف 38 نمبر ملے ہیں!کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہریانہ کے سونی پت کے طالب علم مکل کاجل کے اسکور کارڈ میں 2 مختلف نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق 17 جولائی کو ڈاؤن لوڈ کیے گئے اسکور کارڈ میں مکل کے 605 میں سے 720 نمبر اور آل انڈیا رینک 9551 درج تھی جبکہ اگلے روز دوبارہ اسکور کارڈ ڈاؤن لوڈ کرنے پر اس کے نمبر کم ہو کر 60 رہ گئے اور رینک گر کر 1876324 ہو گئی۔ او ایم آر ریسپانس شیٹ اور این ٹی اے کی ’فائنل آنسر کی‘ سے ملانے پر بھی مکل کا اسکور 605 ہی بنتا ہے، مگر ’بھاجپائی نظام‘ کا 38 نمبروں کا یہ ظالمانہ مذاق دیکھیے! رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مجموعی طور پر امتحان کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والی مودی حکومت نے پیپر لیک کے بعد اب ’نتائج میں مبینہ دھاندلی‘ کے ذریعے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی کے سسٹم نے پہلے پیپر لیک اور 3 مئی 2026 کو امتحان منسوخ ہونے سے 14 بچوں کی جان لے لی، اب چاروں طرف سے دباؤ میں 21 جون 2026 کو دوبارہ ہونے والے امتحان کے بعد بھی مسئلہ جوں کا توں بنا ہوا ہے! انہو نے کہا کہ ملک اور کانگریس اس لڑائی کو سڑک سے پارلیمنٹ تک جاری رکھے گی!