دونوں ایوانوں میں شوروغل اور نعرے بازی، وزیر تعلیم کے استعفے پر اپوزیشن کا اصرار
نئی دہلی، 23 جولائی (یواین آئی) نیٹ (قومی اہلیت و داخلہ امتحان) کے پرچہ لیک معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے جمعرات کو بھی لوک سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ایوان بالا ( راجیہ سبھا) میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی اور وہاں بھی آج کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کرنا پڑا ۔دو مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد دوپہر 2 بجے جب قائم مقام صدرِ نشست دلیپ سیکیا نے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کی تو اپوزیشن ارکان نے ایک بار پھر نعرے بازی اور ہنگامہ شروع کر دیا۔مسٹر سیکیا نے ارکان سے قاعدہ 377 کے تحت اپنے معاملات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے تمام ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر واپس جانے اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا مناسب نہیں ہے ۔ تاہم ان کی بارہا اپیل کے باوجود ہنگامہ جاری رہا، جس پر انہوں نے کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔اس سے قبل ایک مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے دوبارہ ہنگامہ شروع کر دیا۔ شور و غل کے درمیان ہی ضروری سرکاری دستاویزات ایوان کے روبرو پیش کی گئیں۔اپوزیشن کے احتجاج پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن سے ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے ذاتی طور پر بات چیت کی گئی ہے اور حکومت لوک سبھا اسپیکر کے ذریعے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بحث کرانے کے لیے تیار ہے ، لیکن اس کے لیے اپوزیشن کا تعاون ضروری ہے ۔مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی (NEET-UG) پرچہ لیک معاملے پر بحث کے مطالبے پر اپوزیشن نے مسلسل چوتھے دن بھی جمعرات کو راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث تین مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے چار دن گزر چکے ہیں، لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مسئلے پر جاری تعطل کے باعث ابتدائی چاروں دن کی کارروائی ہنگامے کی نذر ہو گئی۔سہ پہر تین بجے جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو نائب چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف ملّیکار جن کھرگے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اس پر مسٹر کھرگے نے ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ”ملک کو زندہ رکھنے کے لیے چاہے ہمیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ، ہم اپنا دل اور اپنی جان سب کچھ قربان کر دیں گے ، لیکن ملک سے ناانصافی ختم کرنے کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے ۔ یہ خاموشی صرف چند لمحوں کی ہے ۔
ہنگامے کے باعث لوک سبھا میں
وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہ ہوسکا
نئی دہلی، 23 جولائی (یواین آئی) پرچہ لیک کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے جمعرات کو بھی لوک سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث مسلسل چوتھے روز بھی سوالیہ وقفہ اور وقفئہ صفر کی کارروائی متاثر رہی۔ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی دوپہر 12 بجے قائم مقام صدرِ نشست دلیپ سیکیا نے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کی، اپوزیشن ارکان نے دوبارہ ہنگامہ اور نعرے بازی شروع کر دی۔ شور و غل کے درمیان ہی انہوں نے ضروری سرکاری دستاویزات ایوان کے روبرو پیش کرائیں۔اپوزیشن کے ہنگامے پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن سے ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے ذاتی طور پر بات چیت کی گئی ہے اور لوک سبھا اسپیکر کے ذریعے حکومت نیٹ کے پرچہ لیک معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بحث کرانے کے لیے تیار ہے ، تاہم اس کے لیے اپوزیشن کا تعاون ضروری ہے ۔