روش کمار
نیپال خطرناک سیلاب سے متاثر ہوا۔ اس آفات سماوی نے نیپال کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک بھی پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ملک کی کئی ریاستوں میں چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ جہاں تک نیپال میں آئی آفات سماوی کی رپورٹنگ کا سوال ہے ہمارے لئے اس طرح ممکن نہیں ہوتی اگر ہمالیہ ٹی وی اور آن لائن خبر ڈاٹ کام کے گروپ ایڈیٹر اومیش چوہان نے اپنے چیانل کا یہ ویڈیو ہمارے ساتھ شیئر نہیں کیا ہوتا۔ ایک سو پانچ کیلو میٹر کا سفر ہیلی کاپٹر نے کیا ہے۔ رسوا گڑھی سے لیکر دیوی گڑھی تک۔ پورے سفر کے دوران آپ تباہی کا منظر اور اس کی شدت دیکھ سکتے ہیں۔ 105 کیلو میٹر تک کے علاقہ کو کس طرح سیلاب نے متاثر کیا اسے دیکھ کر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ دراصل گلیشئر پھٹنے کے باعث برف، مٹی، کیچڑ اور چٹانوں کا ملبہ بہتے ہوئے آگے کی طرف بڑھتا چلا گیا اور ان ریاستوں میں بنائی گئیں عمارتیں، بازار، کھڑی گاڑیاں، لوگ اور بستیاں دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگئے، سڑکیں غائب ہوگئیں، پورا علاقہ مٹی میں مل گیا ہے حد تو یہ ہیکہ مکان کے مکان، گاڑیاں اور بسیں کیچڑ میں دھنس گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہیکہ جان و مال کا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان سب کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرنا آسان نہیں اس کیلئے کافی وقت لگ جائے گا۔ ٹیمورے ایک گاؤں ہے جو منظرعام سے پوری طرح غائب ہوگیا ہے۔ بستی ہی اجڑ گئی ہے جس مقام پر ہیلی پیاڈ تھا، ہوٹل تھی، عمارتیں تھیں اب کچھ بھی نہیں۔ پہاڑوں کے بڑے بڑے حصہ کھسک گئے، درختیں اکھڑ گئے۔ یہ تباہی چین کے علاقہ تک ہوئی ہے۔ حکومت نیپال نے 200 سے زائد ہیلی کاپٹر راحت و بچاؤ کاری میں اتار دیئے ہیں۔ یہ سیلاب نیپال کیلئے بہت زیادہ نقصان کا باعث بنا ہے۔ میلون میں ہزاروں کروڑ روپیوں کی پن بجلی پیدا کرنے کا پراجکٹ تھا لیکن وہ سب کچھ تباہ ہوگیا۔ کتنی مشکل سے وہاں پن بجلی پراجکٹ شروع کیا گیا تھا۔ پہاڑ اس کیلئے کاٹے گئے تھے۔ اب اسی راستے سے ندی کا ایک ایسا سیلاب آیا کہ پن بجلی پراجکٹ غائب ہوگیا۔ نواکوٹ علاقہ کے مکان ندی میں ڈوب گئے۔ علاقہ کھنڈر ہوگیا ہے۔ یہاں نواکوٹ کی جیل جس میں 800 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں۔ اس تباہی میں کئی سارے پل بھی غائب ہوگئے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہیکہ انسانوں نے ترقی کے نام پر ان علاقوں کو تباہ نہیں کیا؟ بار بار ترقیاتی پراجکٹس کے نام پر انسانوں نے قدرت سے چھیڑچھاڑ نہیں کی؟ آپ اندازہ لگائیے کہ صرف آدھے گھنٹے میں کسی ندی کا پانی 9 میٹر بلند ہوجائے تین منزلہ مکان کی بلندی تک پانی اچانک اٹھ جائے، بجلی کی رفتار سے بڑھنے لگ جائے تو دنیا کا کونسا قبل ازوقت وارننگ سسٹم ہے جو آپ کو انتباہ دے دیگا کہ ندی کے راستے سے ہٹ جائے سیلاب آرہا ہے۔ کیا کوئی ایسی ٹکنالوجی ہے اور بھی تو اس کا کیا فائدہ ہوا؟ کس طرح کی تباہی ہوئی ہے اس کا اندازہ لگایا جاتا رہے گا اور ایسا کیوں ہوا اسے لیکر دانشور حضرات کئی سوالات پر غور کرنے لگتے ہیں۔ مان سروور میں بتایا جاتا ہیکہ بڑی تعداد میں ہندوستانی موجود تھے اس کے علاوہ یہ راستہ گوسائی کن جانے کا بھی ہے جہاں رکھشابندھن کے دن لوگ پرانا جینیو بدل کر نیا جنیو پہنتے ہیں۔ 28 اگست کو جنیو پورنیما ہے یہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ نیپال میں آئے سیلاب میں لاپتہ لوگو ںکی غیرسرکاری تعداد 1500 سے 2000 بتائی جارہی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 800 لوگ لاپتہ ہیں ان میں 644 بیرونی سیاح ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد 470 سے زائد ہوگئی ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا ہیکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے اور یہ تمام ٹاملناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔ 288 ہندوستانی ہنوز لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔ مانسرور کی یاترا پر گئے کچھ ہندوستانی چین کی طرف جانے والے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چین نے کہا ہیکہ نیپال کی طرف اس کے بھی 100 سے زائد شہری لاپتہ ہیں۔ ساری تعداد تبدیل ہوسکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے۔ بچاؤ کے کام میں دوسو سے زائد ہیلی کاپٹرس کی مدد حاصل کی گئی ہے۔ زندہ اور مردہ و زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نیپال کے جوان کیچڑ میں ڈوبے لوگوں کو نکال رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہیکہ بچاؤ کا کام کتنا مشکل ہے۔ نیپال کے کئی علاقوں میں گھٹنے سے اوپر تک کیچڑ بھر گیا ہے۔ نیپالی فوج اور دیگر ایجنسیوں کے 7 ہزار سے زائد جوان راحت کاری میں مصروف ہیں۔ نیپال کی مدد کیلئے دنیا کے ہر ملک کو آگے آنا چاہئے۔ نیپال کی آفات سماوی کا تعلق ہندوستان کے علاقوں سے بھی ہے۔ اس لئے ہندوستان کو بھی نیپال کی پوری مدد کرنی چاہئے مگر اس بار زلزلہ کے وقت جو غلطی کی گئی اس طرح کی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا جانا چاہئے۔ اپریل 2015ء میں نیپال میں 9 ہزار سے زائد لوگ زلزلے میں مارے گئے۔ اس وقت ہندوستان کی مدد کا گودی میڈیا اتنا زیادہ ڈھنڈورا پیٹنے لگا کہ نیپال کے عوام کو یہ بات چبھ گئی۔ گودی میڈیا مودی مودی کرنے لگا تھا۔ آپ اس وقت کی رپورٹنگ گوگل سے نکال کر دیکھئے بہت کچھ سمجھنے کا موقع آپ کو ملے گا۔ اس بار ویسی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ وزیراعظم مودی نے بھی نیپال کی مدد کا تیقن دیا ہے اور عام ہندوستانیوں کو بھی نیپال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنا چاہئے۔ ہمالیہ کے خطہ میں کوئی بھی ملک ترقی کے نام پر پہاڑوں کی کٹائی کرتا ہے، اندھادھند کٹائی کرتا ہے، اس کا نقصان ہندوستان اور نیپالی عوام کو اٹھانا ہی پڑتا ہے۔ اس لئے آفت سماوی کا یہ دکھ دونوں ملکوں کا مشترکہ دکھ ہے۔ ابھی تک آئی جانکاری کے مطابق صبح 8:30 بجے کے بعد ہمالیہ پربتوں میں گلیشیر کا بہت بڑا ٹکڑا گر کر گھاٹی میں گر گیا۔ لاکھوں سال سے جمے برف کے ٹکڑے تبھی پگھلتے ہیں جب درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ گلیشیئر ٹوٹنے کے ساتھ بڑے پیمانہ پر پانی ندیوں کے بنائے راستوں پر پہنچ گیا۔ راستے کی چوڑائی کم پڑنے لگی تو اسے چوڑا کرنے پہاڑوں کو توڑنے لگ گیا۔ کٹھمنڈو سے صرف 60 کیلو میٹر دوڑ ہے نیپال کا نیشنل پارک، پارک کا یہ علاقہ نیپال اور تبت کی سرحد سے لگے پہاڑوں کے پاس ہے یہیں پر 2000 فٹ گلیشئر کے ٹونے کی بات ہورہی ہے۔ بتایا جارہا ہے پہاڑ کے دہانے سے ٹوٹ کر یہ ٹکڑا گھاٹی میں ایک کیلو میٹر نیچے گر گیا۔ گھاٹی کی حالت حالت دیکھ کر جانکاروں کا کہنا ہیکہ وہاں صرف گلیشئر کا ملبہ ہے۔ نیویارک ٹائمس کی رپورٹ کا دعویٰ ہیکہ اس علاقہ میں 5.2 شدت کا زلزلہ درج ہوا۔ ماہرین یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ زلزلہ پیما میں زلزلے کی شدت اس لئے آئی کیوں گلیشئر پہلے ٹوٹ کر گرا یا پھر زلزلہ پہلے آیا اور اس کی وجہ سے گلیشئر ٹوٹ کر گرا۔ انٹرنیشنل سنٹر فار انٹی گرینٹڈ ماونٹین ڈیولپمنٹ ایک تنظیم ہے ان سوالوں کی جانچ کررہی ہے۔ جو دکھائی دے رہا ہے وہ یہی ہے کہ گلیشئر ٹوٹ رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ پانی، کیچڑ، برف، پتھر ان سب کا سیلاب لنڈے ندی کی طرف دوڑا جو آگے بڑھ کر دوسری ندیوں میں بھیانک سیلاب کی شکل اختیار کرنے لگا اور بہار کی ندیوں کیلئے بھی خطرہ بن گیا۔ گنٹک ندی تک اس کے امکانات پہنچ گئے ہیں۔ ظاہر ہے الگ الگ وجوہات ہوں گی اور ان وجوہات کے بارے میں جاننا ضروری ہے مگر ایک وجہ جو سب کو دکھائی دے رہی ہے اس کے بارے میں جاننے کیلئے کیا نیا ہے۔