پرگتی بھون جانے سے روک دیا گیا، ورنگل میں حملہ کے خلاف وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کا احتجاج
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی لیڈر وائی ایس شرمیلا کو پولیس نے آج اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ پرگتی بھون کے گھیراؤ کیلئے اپنی کار میں پہنچی تھیں۔ شرمیلا ورنگل میں ٹی آر ایس کارکنوں کے مبینہ حملہ میں نقصان پہنچنے والی کار کو خود چلاتے ہوئے پرگتی بھون کیلئے روانہ ہوئی تھیں۔ شرمیلا اور ان کے حامی جب سوماجی گوڑہ میں راج بھون کے قریب پہنچے پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس موقع پر وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور پولیس کا حصار توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس عہدیداروں نے شرمیلا کو بتایا کہ انہیں حراست میں لیا جارہا ہے لہذا وہ گاڑی سے نیچے اُتر جائیں۔ کافی دیر تک بحث و تکرار کے باوجود شرمیلا نے گاڑی سے اُترنے سے انکار کیا اور خود کو کار میں بند کرلیا۔ پولیس نے کرین کے ذریعہ شرمیلا کی گاڑی کو ایس آر نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ منتقلی کے دوران شرمیلا کار میں بیٹھی رہیں۔ دوسری طرف شرمیلا کی والدہ وائی ایس وجیماں کو پولیس نے ان کی قیامگاہ پر محروس رکھا اور انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے کارکنوں نے پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ کل ورنگل میں نرسم پیٹ کے مقام پر شرمیلا کی یاترا میں شامل گاڑیوں پر ٹی آر ایس کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔ شرمیلا نے الزام عائد کیا کہ گاڑیوں کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا اور کارکنوں کو گالی گلوج کی گئی۔بعد میں شرمیلا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یاترا جاری رہے گی اور وہ ٹی آر ایس کے غنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کے بارے میں احتجاج کیلئے وہ پرگتی بھون جانا چاہتی تھیں تاکہ چیف منسٹر کو تفصیلات سے واقف کرائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں شرمیلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ٹریفک جام کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے کارکنوں کو پنجہ گٹہ جنکشن پر احتجاج کی اجازت نہیں دی۔ر