والدین کے ساتھ تم نے جو کیا وہ تمہارے ساتھ ہوسکتا ہے! کرناٹک ہائی کورٹ کا لڑکی کو انتباہ

   

حیدرآباد۔ 15 جون (سیاست نیوز) مرضی سے شادی کرتے ہوئے والدین کو نظرانداز کرنے والی لڑکی کو کرناٹک ہائی کورٹ نے نصیحتاً انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ والدین کے ساتھ تم نے جو کیا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک باپ کی جانب سے حبس بیجا کی درخواست داخل کی گئی تھی۔ درخواست گذار شخص ٹی ایل ناگراجو نے حبس بیجا میں اپنی لڑکی کے لاپتہ ہونے کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے باپ کی درخواست قبول کرلی اور اس دوران لڑکی نے عدالت میں حاضر ہوکر اپنی محبت کی داستاں سنائی۔ لڑکی کے باپ نے ڈرائیور پر لڑکی کو جبراً ساتھ لیجانے کا الزام لگایا تھا اور باپ کی اس درخواست پر لڑکی نے بھری عدالت میں باپ کی شکایت پر سوال اٹھایا اور باپ کی درخواست کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپنی مرضی سے گئی تھی اور اس نے اپنی پسند اور مرضی سے ڈرائیور سے شادی کرلی ہے۔ لڑکی نے اپنے بالغ ہونے کے دلائل بھی عدالت میں پیش کئے۔ سماعت کرنے کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے اس لڑکی کو نصیحت بھی کی اور انتباہ بھی دیا اور تاریخی جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ والدین کے ساتھ تم نے جو کیا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ لڑکی عدالت میں اپنے عاشق شوہر کے ساتھ حاضر ہوئی تھی۔ لڑکی انجینئرنگ کی طالبہ ہے جبکہ اس کا عاشق شوہر ڈرائیور ہے۔ لڑکی کو محنت مشقت سے پڑھانے والے باپ کو خود اپنی بیٹی کے بیان سے عدالت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ جملے کہے۔ محبت اور عاشقی میں لڑکیوں کو نہ ہی اپنی عصمت کا کوئی خیال ہے اور نہ ہی والدین کی عزت کا کوئی احترام، محبت میں اندھے بن کر وہ اپنے اور اپنے خاندان کیلئے رسوائی کا سبب بن رہی ہیں۔ ان لڑکیوں کو عدالت کی نصیحت اور انتباہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ع