واٹس اپ گروپ میں رکن کی پوسٹنگس پر اڈمن ذمہ دار نہیں،ایپ کا استعمال عام ، کیرالا ہائی کورٹ کا فیصلہ

   

حیدرآباد۔25فروری(سیاست نیوز) واٹس اپ گروپ میں قابل اعتراض مواد پوسٹ کئے جانے یا گروپ کے کسی رکن کی جانب سے ڈالی جانے والی پوسٹ کے لئے واٹس اپ گروپ ایڈمن کو قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیرالہ ہائی کورٹ نے گذشتہ یوم 2020کے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ دیا اور کہا کہ واٹس اپ گروپ میں کئی ارکان ہوتے ہیں اور واٹس اپ کا استعمال معمول بن چکا ہے اس طرح کے گروپس میں اگر کسی کی جانب سے کوئی پوسٹ کی جاتی ہے تو اس کے لئے گروپ بنانے والے اور ایڈمن کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ واٹس اپ کا استعمال عام ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی رابطہ اور خیالات کے تبادلہ کے لئے ہونے لگا ہے اور واٹس اپ گروپس میں استعمال کنندگان کی موجودگی کے علاوہ کئی گروپس میں انہیں شامل کئے جانے کے سبب لوگ ان گروپس سے استفادہ بھی کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی گروپ میں اگر کسی رکن کی جانب سے کوئی قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کاروائی کی جانی ہوتو اس کے لئے گروپ ایڈمن کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔گذشتہ چند برسوں سے ملک بھر میں واٹس اپ گروپس پر شئیر کی جانے والی اطلاعات اور پوسٹس کے لئے گروپ ایڈمن کو ذمہ دارقرار دینے کا سلسلہ چل پڑا تھا لیکن کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلہ کے ذریعہ واٹس اپ گروپ ایڈمن کو بڑی راحت فراہم کردی ہے کیونکہ گروپ میں پوسٹ کئے جانے والے کسی بھی نظریہ یا اطلاع کے لئے گروپ ایڈمن کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ عدالت میں جاری مقدمہ میں مقدمہ دائر کرنے والوں کی جانب سے پوسٹ کرنے والے رکن کے ساتھ ساتھ گروپ ایڈمن کو بھی قصور وار بناتے ہوئے ملزم ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ۔واٹس اپ گروپ میں کی جانے والی پوسٹس پر ایڈمن کے خلاف کاروائی کے جو انتباہ جاری کئے جا رہے تھے اور انہیں متنبہ کرنے کے علاوہ خوفزدہ کرنے کی جو کوشش کی جارہی تھی ان کوششوں کو کیرالہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد شدید دھکہ لگے گا اور واٹس اپ گروپس میں قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے پر اب ایڈمن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی بلکہ اگر کوئی قابل اعتراض مواد کسی واٹس اپ گروپ میں پوسٹ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پوسٹ کرنے والے گروپ کے رکن کے خلاف ہی قانونی کاروائی کی گنجائش رہے گی۔م