مچھروں کی کثرت اور موسمی تبدیلی سے امراض کا پھیلاؤ
حیدرآباد۔19 ۔ستمبر۔(سیاست نیوز) شہر میں وبائی بخار اور ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہاہے کہ اگر موسم میں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وبائی امراض کا شکار افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ دونوں شہروں کے سرکاری دواخانوں کے علاوہ خانگی دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور کہاجارہاہے کہ موسمی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پھیلنے والے امراض کے علاوہ مچھروں کی کثرت کے سبب وبائی امراض کا شکارہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیاجانے لگا ہے۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ موسمی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پھیلنے والے بخارو امراض کوروکنا دشوار ہے کیونکہ انسان کی قوت مدافعت پر اس کا انحصار ہوتا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سرکاری دواخانوں میں بھی وبائی امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا جارہاہے اور ڈاکٹرس مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ڈینگو کے معائنوںکو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر وائرل فیور اور ڈینگو کے درمیان فرق جاننا ہے تو مریضوں کو ڈینگو کا معائنہ کروانا چاہئے کیونکہ وبائی امراض کے دوران جو شکایات ہوتی ہیں اسی طرح کی شکایات ڈینگو میں بھی ہوتی ہیں ۔ بچوں اور ضعیف العمر افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے انہیں ڈینگو اور وبائی امراض سے محفوظ رہنے کے لئے مقوی اور صحت بخش غذاء کے استعمال پر توجہ دینے کے علاوہ مسلسل بخار یا کھانسی اور سردی کی صورت میں معائنہ کرواتے ہوئے علاج کروانا چاہئے کیونکہ معصوم بچوں میں ڈینگو سے زیادہ ٹائیفڈ کا مرض پایا جانے لگا ہے اور اس کے لئے بچوںکی مسلسل نگہداشت کے ذریعہ علاج ناگزیر ہوتا ہے۔ دونوں شہروں میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے چلائی جانے والی شعور بیداری مہم کے دوران کچہرے کی نکاسی کے علاوہ صفائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے ساتھ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے وہ اپنے آس پاس کے ماحول کی صفائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جمع پانی کو صاف کرنے کے خصوصی اقدامات کریں تاکہ مچھروں کی افزائش کے مراکز کو ختم کیا جاسکے۔ سردی ‘ سر درد‘ بخار ‘ کھانسی ‘ نزلہ اور زکام کے علاوہ اعضاء شکنی کے ساتھ دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کو ڈاکٹرس مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر 4تا5 یوم میں ان امراض سے شفاء نہیں ملتی ہے تو ایسی صورت میں وہ روایتی علاج کے بجائے معائنہ کرواتے ہوئے تشخیص کو یقینی بنائیں ۔H/M/3