حیدرآباد۔23جولائی(سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے کابینہ میں شامل وزراء کو اسمبلی کے مانسون اجلاس کیلئے ان قلمدان کی زائد ذمہ داری اور جواب دینے کا مجاز قرار دیا ہے جو قلمدان اب تک کسی وزیر کے پاس نہیں ہے بلکہ چیف منسٹر نے ابھی اپنے پاس ہی رکھاہے۔ سیکریٹری اسمبلی ڈاکٹر وی نرسمہا چاریلو کے آج جاری کردہ بلیٹن کے مطابق دامودر راج نرسمہا کو ان کے محکمہ صحت کے علاوہ محکمہ تعلیم کے جواب دینے کے لئے مجاز گردانا ہے۔ ڈی سریدھر بابو اپنے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ صنعت اور کامرس ‘ امور مقننہ کے ساتھ محکمہ بلدی نظم و نسق اور لاء اینڈ آرڈر کے امور کے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیں گے۔ جوپلی کرشنا راؤ محکمہ آبکاری و سیاحت کے علاوہ کمرشیل ٹیکس کے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیں گے۔ محترمہ بی انوسویا سیتا اکا جو کہ ریاستی وزیر پنچایت راج و دیہی ترقیات ‘ محکمہ خواتین و بہبود اطفال کی وزیر ہیں انہیں محکمہ اقلیتی بہبود ‘ ایس سی ‘ ایس ٹی بہبود کے متعلق سوالات کے جواب کی ذمہ داری دی گئی ہے۔محترمہ کونڈا سریکھا جو ریاستی وزیر جنگلات و ماحولیات ہیں انہیں ان کے اپنے محکمہ کے علاوہ بہبود معذورین و پیرانہ سالی کے علاوہ اسپورٹس کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ وزیر زراعت ‘ مارکٹنگ و ہینڈلو م و ٹیکسٹائلس ٹی ناگیشور راؤ کو کانکنی ‘ انیمل ہسبنڈری سمکیات اور ڈیری ڈیولپمنٹ جبکہ پونم پربھا کر ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و بہبود پسماندہ طبقات کو محکمہ داخلہ ‘ لیبر اور اسکل ڈیولپمنٹ کے متعلق ایوان میں اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیں گے۔3