اسمبلی حلقہ مہیشورم میں ٹی آر ایس دو حصوں میں تقسیم ، دونوں گروپس ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کوشاں
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : حکمران ٹی آر ایس پارٹی قائدین کے درمیان ناراضگیاں اور اختلافات اچانک پھر ایک مرتبہ منظر عام پر آگئے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی ٹی کرشنا ریڈی اور وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے درمیان ٹھن گئی ہے ۔ ٹی کرشنا ریڈی نے کہا کہ سبیتا اندرا ریڈی اسمبلی حلقہ مہیشورم میں اراضیات کے ناجائز قبضوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں ۔ تالابوں اور اسکولس کی اراضیات کو بھی بخشا نہیں جارہا ہے ۔ اس کے خلاف ضرورت پڑنے انہوں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے سے بھی گریز نہ کرنے کا انتباہ دیا ۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کرتے ہوئے وزیر تعلیم کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی شکایت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبیتا اندرا ریڈی ہماری پارٹی سے کامیاب نہیں ہوئیں اور اسمبلی حلقہ مہیشورم کی ترقی کو انہوں نے نظر انداز کردیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ مہیشورم سے سبیتا اندرا ریڈی نے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر ٹی آر ایس کے امیدوار ٹی کرشنا ریڈی کو شکست دی تھی ۔ جس کے بعد وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئیں اور چیف منسٹر نے انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وزیر تعلیم بنادیا ۔ جس کے بعد سے دونوں کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی تھی تب سے اسمبلی حلقہ میں دونوں قائدین ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جس سے مہیشورم میں پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی کرشنا ریڈی کانگریس قائدین کے رابطہ میں ہے اوریہ بھی افواہیں گشت کررہی ہے کہ وہ کسی بھی وقت کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔۔ ن