تہران : اپنے دفاع کے بنیادی حق کے مطابق، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم کیا گیا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت کی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں فیصلہ کن اقدام کیا ہے۔ ان اشتعال انگیزیوں میں ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کا قتل، جو کہ ایرانی حکومت کے مہمان تھے، اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل اور ایک ایرانی سینئر فوجی بیروت میں مشیر جنرل نیلفروشانکی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ یکم اکتوبر 2024 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے صیہونی حکومت کی فوجی اور سیکورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کا ایک سلسلہ انجام دیا۔ایران کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کا مطالبہ،طویل مدتی تحمل کے بعد ، علاقائی اور بین الاقوامی امن کیلئے اس کے ذمہ دارانہ انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے خلاف نسل پرست غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے جاری غیر قانونی اقدامات اور نسل کشی کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام کے خلاف اس کی مسلسل فوجی جارحیت کے جواب میں کیا گیا ہے۔صیہونی حکومت کے برعکس، جس نے ہمیشہ معصوم شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو اپنی جارحیت اور قتل و غارت کا جائز اہداف سمجھا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران، اخلاقی اصولوں اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی بنیاد پر اور بین الاقوامی انسانی قانون میں بیان کردہ امتیاز کے اصول کی مکمل پاسداری کرتا ہے، ایران کے میزائل حملوں کا مقصد صرف اور صرف مخالف حکومت کی فوجی اور سیکورٹی تنصیبات پر تھا۔اسلامی جمہوریہ ایران، صیہونی حکومت کے حامیوں اور اس کے فوجی و مالی معاونین کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہ وہ حکومت کے رہنماؤں کی لاپرواہ کارروائیوں کو روکیں، اور کسی بھی تیسرے فریق کی شمولیت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ اسرائیلی حکومت کے ذریعے خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق مزید خطرات کو روکا جا سکے۔اسلامی جمہوریہ ایران مکمل طور پر تیار ہے کہ اگر ضروری ہو تو اپنے جائز مفادات کے تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے مزید دفاعی اقدامات کرے، اور کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی یا غیر قانونی طاقت کے استعمال کے خلاف اقدام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔امن تب قائم ہوگا جب تمام ممالک سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیں، دوہرے معیار سے دور رہتے ہوئے دیگر اقوام کے حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کریں اور دہشت گردی اور شہریوں کے قتل کو مسترد کریں ۔انصاف کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی، جو دوہرے معیار سے پاک ہو، امن کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ممالک کو چاہیے کہ وہ فلسطین میں حقوق کی خلاف ورزیوں، دہشت گردی اور شہری ہلاکتوں کے خلاف متحد ہو جائیں، جو کہ پچھلے سات دہائیوں سے جاری ہیں، اور انسانی وقار کو ترجیح دیں۔