4 دن گزرنے کے باوجود مایوسی، غریب ملازمین مالیاتی مشکلات کا شکار
حیدرآباد۔ 4 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں مستقل چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کے بعد کارکردگی میں بہتری کی امید کی جارہی تھی لیکن عوام سے زیادہ بورڈ کے ملازمین مسائل کا شکار ہیں۔ وقف بورڈ کے ملازمین کو ماہ جون کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی جبکہ جولائی کے آغاز کو 4 دن گزرچکے ہیں۔ ملازمین کی تنخواہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کے بینک اکائونٹس میں جمع کردی جاتی ہے لیکن جون کی تنخواہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر آج تک جاری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنخواہ کی عدم اجرائی سے پریشان درجہ چہارم کے ملازمین نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عبدالحمید سے نمائندگی کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ تین دنوں سے کسی نہ کسی بہانے کے تحت ملازمین کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وقف بورڈ میں تنخواہوں کی اجرائی کے لیے بجٹ نہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بجٹ کی اجرائی کے لیے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور صدرنشین وقف بورڈ کی دستخط ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے صدرنشین وقف بورڈ کی دستخط حاصل کرنے کے بجائے اس سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ صدرنشین وقف بورڈ اگرچہ مختلف فائلس پر دستخط کررہے ہیں لیکن چیف ایگزیکٹیو آفیسر مالیاتی امور سے متعلق فیصلے میں ان کی دستخط حاصل کرنے پس و پیش کررہے ہیں جس کا خمیازہ ملازمین کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ وقف بورڈ کے کسی بھی چیک کی اجرائی کے لیے دونوں کی دستخط ضروری ہے۔ بورڈ کے اکائونٹ سیکشن نے تنخواہوں کی اجرائی کی تمام کارروائی کو مکمل کرلیا ہے اور صرف صدرنشین و چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی دستخط کا انتظار ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کے مستقل اور عارضی ملازمین کی تعداد تقریباً 200 ہے۔ ان میں بیشتر عارضی ملازمین تنخواہوں کی عدم اجرائی سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مالیاتی بحران کا شکار ہوجائیں گے اگر تنخواہوں کی اجرائی میں مزید تاخیر ہوگی۔ ہرماہ کی پہلی تاریخ کے ساتھ ہی ملازمین کو ضروری امور کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور بعض ملازمین نے کہا کہ وہ قرض کی قسط ادا کرنے سے محروم ہیں جس کے نتیجہ میں ان پر سود کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر پر تاحال کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ملازمین کی یونین نے بھی تنخواہوں کی فوری اجرائی کا مطالبہ کیا ہے۔