وقف ترمیمی قانون پر بی جے پی کو حلیف جماعتوں کی مخالفت کا سامنا

   

تلگو دیشم اور لوک جن شکتی نے وسیع تر مشاورت کی تجویز پیش کی، وائی ایس آر کانگریس پارٹی ترمیمات کے خلاف

حیدرآباد ۔23 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکز کی بی جے پی قیادت این ڈی اے حکومت کو مجوزہ وقف ترمیمی قانون کی منظوری کی راہ میں اپوزیشن کے علاوہ بعض حلیف جماعتوں کی مخالفت کا سامنا ہے ۔ وقف ترمیمی قانون کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں بی جے پی کی حلیف تلگو دیشم اور لوک جن شکتی پارٹی نے قانون سازی سے قبل وسیع تر مشاورت کی تجویز پیش کرتے ہوئے موجودہ حالت میں قانون کی منظوری کی مخالفت کی۔ واضح رہے کہ بل کی پیشکشی کے موقع پر تلگو دیشم نے حکومت کی تائید کی تھی لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد سے ملاقات کے بعد چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے موجودہ حالت میں بل کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ متنازعہ ترمیمات کو حذف کرنے کے حق میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں تلگو دیشم رکن ایل سری کرشنا دیورائے نے کہا کہ مجوزہ قانون کے سلسلہ میں وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں اور دیگر فریقین سے مشاورت کی جانی چاہئے۔ بی جے پی کے ایک اور حلیف لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے رکن نے مسلمانوںکی جانب سے پیش کئے گئے اعتراضات کا جائزہ لینے کیلئے مزید مشاورت کرنے کا مشورہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزارت اقلیتی امور کے عہدیدار ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کئے گئے اعتراضات کا موثر جواب دینے میں ناکام رہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی جو این ڈی اے میں شامل نہیں ہے، وہ ابتداء ہی سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کر رہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں موجود وائی ایس آر کانگریس کے رکن وجئے سائی ریڈی نے بل میں شامل کئی ترمیمات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں سے مشاورت کے بغیر ہی یکطرفہ طورپر بل تیار کردیا ہے۔ انہوں نے وقف اراضیات کے بارے میں ضلع کلکٹر کو مکمل اختیارات دینے اور وقف اداروں میں غیر مسلم افراد کو شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نتیش کمار کی جنتا دل یونائٹیڈ نے بھی مرکزی حکومت کو وقف ترمیمی قانون کے بارے میں جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اسی دوران پارلیمانی کمیٹی کے صدرنشین جگدمبیکا پال نے کہاکہ تمام 44 ترمیمات پر وسیع تر مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں ایک جامع بل پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی مسلمانوں کے مختلف مسالک کے نمائندوں سے بل کے بارے میں رائے حاصل کرے گی۔ 1