وقف جائیدادوں سے 6 ماہ میں 3 کروڑ 60 لاکھ کرایہ کی وصولی

   

اگسٹ سے آن لائن ادائیگی اورجولائی سے کرایہ جات پر نظر ثانی کا فیصلہ
حیدرآباد۔/29 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے متولیوں اور کرایہ داروں کو اگسٹ سے اپنے کرایہ جات آن لائن جمع کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ جولائی سے اوقافی جائیدادوں کے کرایہ جات پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔ وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ کیلئے تمام خدمات کو آن لائن کیا جارہا ہے۔ رینٹ کلکٹرس کی جانب سے کرایہ جات کی وصولی میں کوتاہی کو دیکھتے ہوئے چیف ایگزیکیٹو آفیسر شاہنواز قاسم نے آن لائن کرایہ جات کی وصولی کا فیصلہ کیا اور سافٹ ویر مکمل تیار کرلیا گیا ہے۔ اگسٹ سے تمام کوتاہیوں اور کرایہ داروں کو کرایہ کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ادائیگی سے متعلق لنک فون پر روانہ کیا جائے گا اور کرایہ داروں کو آن لائن ادا کرنا ہوگا۔ وقف بورڈ نے متولیوں کے علاوہ تقریباً 4 ہزار کرایہ داروں کی تفصیلات آن لائن پر شامل کی ہیں۔ کرایہ داروں کی تعداد میں مزید اضافہ کی امید کی جارہی ہے اور یہ تعداد 6 تا 7 ہزار تک ہوسکتی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کرایہ جات کے طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپئے وصول کئے گئے اور 7 کروڑ وصولی کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ رینٹ کلکٹرس کو تبدیل کردیا گیا اور نئے کلکٹرس کیلئے نشانے الاٹ کئے گئے ہیں۔ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے جولائی سے کرایہ جات پر نظرِ ثانی کی جائے گی ۔ جن کرایہ داروں سے کوئی معاہدہ نہیں ہے ان سے مشاورت کے ذریعہ نیا کرایہ طئے کیا جائے گا۔ وقف بورڈ نے تقریباً 600 متولیوں کی نشاندہی کی ہے جن میں 476 کی آمدنی ایک لاکھ روپئے سے زائد ہے۔ ہر ماہ تین دن کے وقفہ سے متولیوں اور کرایہ داروں کو کرایہ کی تفصیلات اور ادائیگی کی یاد دہانی کے طور پر ایس ایم ایس کیا جائے گا۔ آن لائن عدم ادائیگی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ مساجد سے مربوط ملگیات کے کرایہ جات وقف بورڈ کی جانب سے راست وصولی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مسجد کے اخراجات کی پابجائی وقف بورڈ کرے گا۔ وقف کرایہ جات کی وصولی کے سلسلے میں عہدیداروں کو تساہل کے نتیجہ میں بورڈ کو ہر سال لاکھوں روپئے سے محروم ہونا پڑرہا تھا ۔ر