واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیکنالوجی کی صنعت کی ارب پتی شخصیت ایلون مسک کی جانب سے امریکی انتخابات سے قبل سوئنگ ریاستوں کے رجسٹرڈ ووٹروں میں روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ ڈالر کی رقم بطور تحفہ دیے جانے پر تنقید کی ہے۔ بائیڈن کے مطابق یہ “بالکل نا مناسب ہے”۔امریکی صدر کا یہ موقف ڈیلاویئر ریاست میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں سامنے آیا۔فلاڈلفیا کاؤنٹی کے پبلک پراسیکیوٹر لیری کرسنر نے جو خود ڈیموکریٹ ہیں، پیر کے روز ارب پتی ایلون مسک اور انعامی رقم تقسیم کرنے والی ان کی تنظیم PAC (پیک) کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔اسی طرح امریکی وزارت انصاف نے ‘پیک’ کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ یہ انعام (دس لاکھ ڈالر) وفاقی قوانین کی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔انتباہات کے باوجود ‘پیک’ تنظیم نے انعامی رقم کے چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ابھی تک ‘پیک’ تنظیم سوئنگ ریاستوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کو دس لاکھ ڈالر کے 9 چیک دے چکی ہے۔