’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘: راہل کی الیکشن کمیشن کے حکم پر تنقید

,

   

کانگریس نے مزید کہا کہ (آل انڈیا ترنمول کانگریس) کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کرنا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو دیا گیا ’رات گئے سالگرہ کا تحفہ‘ ہے۔

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعہ، 18 ستمبر کو الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی جس میں ترنمول کانگریس کے حریف دھڑوں کو مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات کے دوران پارٹی کا نام اور ”پھول اور گھاس“ والا انتخابی نشان استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ادارے کی آئینی ذمہ داری عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کرنا ہے، لیکن اس کے برعکس، وہ انہی قوتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلے کو الٹ دیتی ہیں۔

گاندھی نے ’ایکس‘ پر ہندی میں ایک پوسٹ میں کہا، ”پہلے شیو سینا، پھر این سی پی ، اور اب ترنمول کانگریس۔ ہر بار ایک ہی انداز – بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر کسی پارٹی کو تقسیم کرتے ہیں۔ پھر اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔“

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جب پوری کی پوری پارٹی چرائی جا سکتی ہے، تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ بھی چرائے جا سکتے ہیں۔

گاندھی نے کہا، ”ووٹ چوری۔ حکومت چوری۔ اب پارٹی چوری – یہ ہمارے جمہوری زوال کی علامت بن چکے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کرنا ہے لیکن اس کے برعکس، وہ انہی قوتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلے کو الٹ دیتی ہیں۔“

گاندھی نے کہا، ”یہ لڑائی صرف ممتا بنرجی کی نہیں ہے۔ یہ ہر اس سیاسی جماعت اور ہر اس ووٹر کی لڑائی ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔“

کانگریس نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی مذمت کی جس میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کے حریف دھڑوں کو مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات کے دوران پارٹی کا نام اور ”پھول اور گھاس“ والا انتخابی نشان استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ انتخابی ادارے کی جانب سے اپنی آئینی ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔

کانگریس نے مزید کہا کہ کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کرنا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو دیا گیا ”رات گئے سالگرہ کا تحفہ“ ہے۔ الیکشن کمیشن نے کے حریف دھڑوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضمنی انتخابات کے دوران پارٹی کا نام اور انتخابی نشان استعمال نہ کریں، اور انہیں کہا ہے کہ وہ جمعہ کی صبح تک اپنی پسند کے نام اور نشانات جمع کرائیں۔

جمعرات کی رات جاری ہونے والے اپنے عبوری حکم میں، کمیشن نے ممتا بنرجی اور اروپ رائے کی قیادت والے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں کا موقف سننے کے بعد کہا کہ اس معاملے پر ‘الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر 1968’ کی دفعات کے تحت کمیشن کی جانب سے حتمی اور ٹھوس فیصلے کی ضرورت ہے۔

اپنے عبوری حکم میں الیکشن کمیشن نے کہا، “ریکارڈ پر موجود تمام معلومات پر غور و خوض کے بعد… کمیشن کی رائے ہے کہ آل انڈیا ترنمول کانگریس میں دو حریف گروپ موجود ہیں، جن میں سے ایک کی قیادت محترمہ ممتا بنرجی کر رہی ہیں اور دوسرے کی قیادت شری اروپ رائے کر رہے ہیں۔”

کمیشن نے کہا، “اب ہر گروپ خود کو اصل پارٹی ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، لہٰذا اس معاملے پر ‘الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر 1968’ کے پیرا 15 کے تحت کمیشن کی جانب سے ٹھوس فیصلے کی ضرورت ہے۔”

اس کے پیشِ نظر، کمیشن نے کہا کہ دونوں حریف گروپوں کو مساوی سطح پر رکھنے اور ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے، نیز ماضی کی نظیروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ عبوری حکم جاری کیا جا رہا ہے۔ اس حکم کا مقصد موجودہ ضمنی انتخابات کے دوران صورتحال کو سنبھالنا ہے اور یہ اس تنازعے پر حتمی فیصلے تک نافذ رہے گا۔

کمیشن نے کہا، “شری اروپ رائے (درخواست گزار) اور محترمہ ممتا بنرجی (مدعا علیہ) کی قیادت والے کسی بھی گروپ کو پارٹی کا نام ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔”

کمیشن نے مزید کہا، “کسی بھی گروپ کو ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ کے لیے مخصوص انتخابی نشان ‘پھول اور گھاس’ استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔”